خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 78 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 78

خطبات ناصر جلد ششم ZA خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء قائم نہیں کی جائے گی اُس وقت تک یہ بھی کامیاب نہیں ہوگی۔چنانچہ قرآن کریم کی یہ شان ہے کہ اس وقت تک دو بین الاقوامی تنظیمیں بن چکی ہیں مگر چونکہ اُنہوں نے قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصولوں کو نظر انداز کر دیا ہے اس لئے ان میں سے پہلی جو لیگ آف نیشنز کہلاتی تھی ، نا کام ہو چکی ہے۔دوسری تنظیم اس وقت اقوام متحدہ کی صورت میں قائم ہے مگر یہ بھی ناکامی کی طرف حرکت کر رہی ہے۔پس گذشته ۲۷ سال میں تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے کام نہیں ہوا لیکن وعدے تو ہوتے رہے۔وعدے کئے ہندوستان نے ، فیصلہ کیا ہندوستان اور پاکستان دونوں نے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کرے گا۔کشمیری عوام اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے اس کی ضمانت دی بین الاقوامی تنظیم یعنی اقوام متحدہ نے اور ضمانتیں دیتی چلی گئی۔میں نے تو اس وقت چند حوالے پڑھے ہیں ورنہ اس مسئلہ کی پوری تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کہا گیا کہ ہاں یوں ہوگا ، ہاں یوں ہوگا مگر جو عملاً ہوا وہ یہ ہوا کہ جس وقت پاکستان اور ہندوستان علیحدہ علیحدہ ہوئے یعنی ہندوستان کے دوٹکڑے ہوئے ایک کا نام بھارت رکھا گیا اور دوسرے کا پاکستان۔جو ہمارا ملک ہے۔۱۹۴۷ء میں جموں و کشمیر کے ہر دو حصوں کے علاوہ لداخ کے علاقہ کو بھی شامل کر کے جس کے نصف حصہ میں قریباً سارے ہی ہندو ہیں اور جموں میں بھی ہندوؤں کی اکثریت ہے۔میں ۱۹۴۷ء کی بات کر رہا ہوں ویسے چونکہ مردم شماری غالباً ۱۹۴۱ء میں ہوئی تھی اس لئے ۱۹۴۱ء کہنا زیادہ صحیح ہے۔غرض لداخ کے علاوہ جموں کا علاقہ جس میں وادی کشمیر کے مقابلہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہے، اسے بھی شامل کر کے کل آبادی میں ۸۱۔۲ فیصد مسلمان تھے اور ۱۸۔۸ فیصد غیر مسلم تھے گویا مسلمان بہت بھاری اکثریت میں تھے مگر گذشتہ ۲۷ برس میں بیچارے مظلوم کشمیریوں کے حق میں فیصلہ ہونے کی بجائے اُن پر ظلم و ستم کا دور دورہ رہا۔اُن کا جو انسانی حق ہے یعنی خودارادیت کا حق کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں، وہ بھی نہیں دیا گیا۔اقوام متحدہ نے اُن کا سیاسی حق تسلیم کیا ہے اور یہ انسانی حق سے تھوڑا سا مختلف ہے لیکن خود ارادیت کے طور پر کشمیریوں کو نہ انسانی حق دیا گیا اور نہ سیاسی حق بلکہ اس کے برعکس کشمیری مسلمانوں کے لئے اس حق کے حصول کی جو بنا تھی یعنی