خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 72
خطبات ناصر جلد ششم ۷۲ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء آیا تو اُس وقت ریڈ کلف نے جو فیصلہ دیا تھا وہ ہندوستان کے حق میں تھا اور پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے والا تھا۔بظاہر تو اُس نے ہر دو طرف کی باتیں سنیں لیکن اُن دنوں میں بھی ہمیں یہ علم ہو رہا تھا کہ ہر دو کی باتیں سننے کا ڈھونگ رچایا جا رہا ہے اور فیصلہ گفتگو سے بھی قبل کر دیا گیا ہے اس غلط فیصلہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ ضلع گورداسپور جو اُس طرف سے کشمیر کا دروازہ ہے اور جس میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ، وہ اس ایوارڈ میں ہندوستان کو دے دیا گیا۔گورداسپور کا ضلع جیسا کہ تقسیم کا طریق کار مقرر ہوا تھا، پاکستان کے ساتھ شامل کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔دوسرے وہ ایک طرف سے لاہور کے ضلع کے ساتھ ملحق تھا تو دوسری طرف سے سیالکوٹ کے ساتھ اور اس طرح ( کونٹیکوس Contiguous یعنی متصل ہونے کی جوشردتھی ، وہ بھی پوری ہوتی تھی لیکن گورداسپور کا ضلع ہندوستان کو دے دیا گیا اور اس طرح ہر وہ مضبوط بنیاد فراہم کر دی گئی جس سے کشمیریوں پر مزید ظلم وستم کا دور شروع ہو گیا۔ایسا ظلم کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم ہو نہیں سکتا گویا اُن کو زبردستی ہندوستان کے ساتھ ملحق کرنے کی سکیم تیار کر لی گئی۔اس کے بعد ہندوستان نے غذر لنگ کی بنا پر وہاں اپنی فوجیں بھیجنی شروع کر دیں پھر یہ ایک مقدمہ کی شکل بن گئی اور پھر یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے جایا گیا۔وہاں کچھ قرارداد میں منظور کی گئیں جن پر آج تک یہ بین الاقوامی تنظیم عمل نہیں کروا سکی۔جس وقت اس ناانصافی کے خلاف دنیا میں آواز اُٹھی تو پنڈت نہر و جو اُس وقت بھارت کے وزیر اعظم تھے، انہوں نے انسانی ضمیر کو یہ یقین دلایا کہ یہ ظلم ( جواب اندرا عبداللہ سمجھوتہ کے ساتھ انتہا کو پہنچ چکا ہے) نہیں ہو گا۔چنانچہ انہوں نے اپنی ایک تقریر میں جو ۲ نومبر ۱۹۴۷ء کو دہلی ریڈیو سے نشر کی گئی، دنیا کو یہ کہا : "We have declared that the fate of Kashmir is ultimately to be decided by the people۔That pledge we have given, and the Maharaja has supported it, not only to the people of Kashmir but to the world,