خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 62
خطبات ناصر جلد ششم ۶۲ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء ہمارے ملک میں بلکہ میں کہوں گا کہ اس سارے علاقے میں درختوں کی طرف توجہ نہیں۔یہاں حسنات دنیا کے لئے بھی وہ کوشش نہیں کی گئی جس کی طرف اسلام کی تعلیم ہمیں توجہ دلاتی ہے۔اُخروی حسنات تو علیحدہ رہے چنانچہ حسنات دنیا میں سے ایک جنگلات کے حسنات ہیں فوائد ہیں۔قرآن کریم نے درختوں کے بہت سے فوائد بھی بتائے اور قرآن کریم نے یہ بھی بتایا کہ ایک مسلمان کو درخت کو پالنے کی طرف توجہ دینی چاہیے اور بغیر ضرورت کے درختوں کو کاٹنا نہیں چاہیے نہ ضائع کرنا چاہیے بڑی سختی سے اسلامی تعلیم نے یہ حکم دیا ہے۔پس اپنے دوسرے بھائیوں کے ساتھ مل کر جہاں جہاں احمدی ہیں وہ زیادہ سے زیادہ جنگلات اور درخت لگانے کی طرف توجہ دیں اور ربوہ کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ ایک تو ہم اپنے اس شہر کو خوبصورت بنانا چاہتے ہیں پھر سایہ دار بنانا چاہتے ہیں۔اس وقت گرمیوں میں بڑی سخت تپش ہمیں تنگ کرتی ہے۔اگر ہر گھر میں درخت ہوں تو اس تپش میں کمی بھی آجائے گی اور درخت لگانے کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ربوہ میں ہزار سے او پر گھر ہیں ان میں سے ہر ایک میں اتنی گنجائش آسانی سے نکل سکتی ہے اگر ہم گھروں میں نو سے لے کر بین آیا بائیں درخت تک لگا ئیں تو وہ آسانی سے پالے جا سکتے ہیں۔تو جہ سے محنت کرنے کی بات ہے وقت پر پانی دینے کی بات ہے کھا د جو ہے وہ تو جو برتن آپ دھوتے ہیں یا اس قسم کی دوسری چیز میں ہیں اگر ان کا رُخ درختوں کی طرف پھیر دیا جائے تو وہ کھا د بن جاتی ہیں۔ہمارے یہاں ربوہ کی مٹی میں گھر بڑا ہے اسی طرح اس مٹی میں اور بھی بہت سے کیمیاوی اجزا ہیں۔بہت سے درخت یہاں ہوتے نہیں۔کالج کے زمانہ میں، میں نے درخت لگانے کی بہت کوشش کی اور ہم لاہور سے تین سو کے قریب قسمیں مختلف درختوں اور Shrubs ( جھاڑیوں ) کی لے کر آئے تھے جن میں سے آٹھ یا دس پودے پہلے تھے ، باقی درختوں کو زمین نے قبول نہیں کیا یا ان درختوں نے زمین کو قبول نہیں کیا۔بہر حال بعض ایسے درخت ہیں جو یہاں ہو جاتے ہیں اور ہماری زمین کے نیچے چار پانچ فٹ سے اور پھر دس بارہ فٹ تک بڑا سخت حصہ زمین کا ہے۔یہاں ایک Layer یا تہہ آتی ہے جس میں عام درختوں کی جڑیں گزر نہیں سکتیں اور عام درخت جو ہیں ان کو خدا تعالیٰ