خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 61
خطبات ناصر جلد ششم บ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء قیامت تک کے لئے گھوڑوں کی پیشانیوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھ دی ہے خطبه جمعه فرموده ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔دوو اَفَرَعَيْتُمُ النَّارَ الَّتِى تُوُرُونَ - وَاَنْتُمْ اَنْشَأْتُم شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ - نَحْنُ جَعَلْنَهَا تَذْكِرَةً وَمَتَاعًا لِلْمُقْوِينَ۔(الواقعة : ۷۲ تا ۷۴) پھر حضور انور نے فرمایا:۔گذشتہ برس یا شاید ایک سال سے زائد ہوا، میں نے اہلِ ربوہ سے کہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں، کھلی جگہوں پر ، سڑکوں پر ، گھروں میں۔اس سلسلہ میں کچھ کام تو ہوا ہے لیکن جس توجہ اور تندہی سے یہ کام ہونا چاہیے تھا اس طرح پر نہیں ہوا۔اُس وقت کے لگے ہوئے کچھ درخت تو ہمیں یہاں آتے ہوئے بھی سڑک کے کناروں پر نظر آتے ہیں لیکن اتنے تو کافی نہیں کیونکہ سارے ملک میں یہ ہفتہ درخت لگانے کا منایا جا رہا ہے اور چونکہ ہمارے دل میں اپنے ملک کا پیار ہے اور اس کی خوش حالی کے لئے ہمارے دل میں تڑپ بھی ہے اور عملاً بھی ہم اس میں حصہ لیتے ہیں اور ملکوں کی خوش حالی کا مدار ایک حد تک جنگلات اور درختوں پر بھی ہوتا ہے۔