خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 595
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۵ خطبہ جمعہ ۵ رنومبر ۱۹۷۶ء اور قرآن کریم کی تعلیم جو اُن کے سامنے جلسہ سالانہ پر پیش کی جاتی ہے اس کی خاطر انہوں نے تنگ جگہوں پر گزارہ کر لیا۔اہل ربوہ کے لئے یہ بات سوچنے کی نہیں ، اہل ربوہ کے لئے جو بات سوچنے والی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ربوہ نے ان کے آرام اور سہولت کے لئے کیا قربانیاں دینی ہیں۔اس لئے میں اپنے بھائیوں سے جور بوہ میں بسنے والے ہیں یہ کہوں گا کہ شوق اور بشاشت کے ساتھ پہلے سے زیادہ تعداد میں اپنے گھروں کے حصے جلسہ سالانہ کے انتظام کو دیں۔میں نے پہلے جب بھی تحریک کی ہے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ میرے علم میں بہر حال ایسا کوئی گھرانہ نہیں جو اپنے ہاں مہمان ٹھہرانے سے انکار کرتا ہو۔لیکن چونکہ الہی سلسلہ میں منافق بھی ہوتے ہیں ہو سکتا ہے یہاں بھی ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں منافق کے ایمان کا گو ایک حصہ مفلوج ہے لیکن کچھ حصہ ایمان والا بھی ہے۔چاہے وہ بعض دفعہ دکھاوے کے لئے ، ریا کے لئے ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرتا ہے وہ تو کرتا ہے لیکن میرا خیال ہے کہ شاید ایک گھرانہ بھی ایسا نہیں ہوگا کہ جس نے اپنے ہاں مہمان ٹھہرانے سے انکار کر دیا ہو۔ان کے اپنے عزیز آتے ہیں رشتے دار آتے ہیں دوست آتے ہیں دوستوں کے دوست آتے ہیں۔بعض دفعہ ایسے لوگ آجاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ فائدہ پہنچ جائے گا اُن کو وہ اپنے ہاں ٹھہراتے ہیں لیکن اس کے باوجود جن لوگوں کی واقفیت یہاں نہیں ہے ویسے تو ہم سب بھائی بھائی ہیں لیکن وہ لوگ جو اپنے بھائیوں سے ذاتی تعارف نہیں رکھتے اور یہاں اپنا انتظام نہیں کر سکتے اور نظام جلسہ ان کا انتظام کرتا ہے ان کے لئے اگر آپ اپنے مکانوں کا کوئی حصہ خواہ ایک کوٹھڑی ہی کیوں نہ ہوضرور دے دیں۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا ایک دفعہ جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا ایک لکھ پتی دوست جو ذرا دیر سے جلسہ پر پہنچے تھے اور اچانک میری نظر ان پر پڑ گئی تھی ، اُن کو میں نے ایک چھوٹے سے غسل خانے میں ٹھہرایا تو وہ اتنے خوش ہوئے اس غسل خانہ نما کوٹھڑی کو لے کر کہ گویا ان کو دنیا و جہان کے خزانے ملے گئے ہیں۔جلسہ سالانہ پر ان کو دنیا و جہان کے خزانے ہی ملنے تھے جو ظاہری اور مادی دولت ہے یہ لینے کے لئے تو وہ یہاں نہیں آئے تھے۔یہ تو ربوہ سے باہر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے فراوانی پیدا کی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت دے رکھی تھی لیکن وہ دراصل