خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 594
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۴ خطبہ جمعہ ۵ رنومبر ۱۹۷۶ء تاہم اس سے پہلے تم جو کچھ کر چکے ہو میں اس کی باز پرس نہیں کرتا لیکن آج کے بعد تم ہوٹل کے قوانین کی پابندی کرو گے لیکن جہاں تک تمہارے عقائد یا تمہارے نزدیک ان کے تقاضوں کا تعلق ہے جو کام تم صحیح سمجھتے ہو وہ کرو۔کالج تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں لگائے گا۔انسان فطرتاً شریف ہے اسی لئے اسے اشرف المخلوقات کہا گیا ہے۔خیر وہ تو ایک ہنگامہ تھا اور گزرگیا۔بعد میں مجھے بہت خوشی محسوس ہوتی تھی یہ دیکھ کر کہ پچاس سو گز سے بھی ان کی نظر مجھ پر پڑ جاتی تھی تو ان کی گردنیں جھک جاتی تھیں کیونکہ ان کی فطری شرافت جو عارضی طور پر دبی ہوئی تھی اُبھر آئی تھی۔پس چونکہ ہمارے تعلیمی ادارے قوم کی خدمت کے لئے تھے اگر قوم نے یہ منصوبہ بنایا ہے اور حکومت یہ بجھتی ہے ان کو قومیا لیا جائے تو قوم کی زیادہ خدمت ہوسکتی ہے یہ ان کا منصو بہ اور ان کا خیال تھا میں کسی سیاسی بحث میں نہیں پڑوں گا کیونکہ میں سیاست دان نہیں ہر آدمی سمجھتا ہے۔چنانچہ جب تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے کا فیصلہ ہوا تو ہم نے کہا ٹھیک ہے ہم نے قوم کی خدمت کرنی تھی تم سمجھتے ہو اس طرح بہتر خدمت کر سکتے ہو تو لے لولیکن کروڑوں کی جو جائیداد حکومت کو مسکراتے چہروں اور بشاش دل کے ساتھ ہم نے پیش کر دی قوم کی خدمت کے لئے اگر اس کے چند دنوں کے استعمال کی اُسی جماعت کو ضرورت پڑ جائے جنہوں نے ان پر پیسے خرچ کئے تو ایسی صورت میں اگر بعض مقامی افسروں کے دلوں میں یہ انقباض پیدا ہو کہ تعلیمی ادارے جماعت کے استعمال میں نہیں آنے چاہئیں تو ان افسروں کو میں یہ کہوں گا کہ گردنیں جھکاؤ اور اپنے دل میں جھانکو اور غور کرو کہ تمہارا یہ انقباض کس حد تک درست ہے۔جلسہ سالانہ پر تعلیمی اداروں کی عمارتیں ہمیں اگر مل بھی جائیں تب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس دفعہ خدا کے فضل سے اتنے مہمان آئیں گے کہ پچھلے سال کی نسبت گنجائش کم ہوگی اور مہمان رہائش کے لحاظ سے تنگی محسوس کریں گے۔باہر سے آنے والے دوست تکلیف تو پہلے سے زیادہ برداشت کر لیں گے خوشی سے اور ہنستے ہوئے اور بشاشت کے ساتھ اور الحمدللہ پڑھتے ہوئے پہلے سے تنگ جگہ میں گزارہ کر لیں گے لیکن جہاں تک ہمارا سوال ہے جہاں تک اہل ربوہ کا سوال ہے وہ یہ نہیں کہ باہر سے آنے والوں نے خدا کی راہ میں قربانی دی اور خدا کی توحید کی باتیں سننے کے لئے