خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page vi
IV نگاہ میں پیار دیکھنے کے مواقع میسر کرتا ہے۔“ ۲۔۱۷ جنوری ۱۹۷۵ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے انصار اللہ کو اپنی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا :- ” پس انصار اللہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور تربیت کا پروگرام بنائیں اور ہر ایک کو معرفت کے مقام پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ٹھیک ہے ہر ایک نے اپنی استعداد اور اپنی قوتوں کے مطابق اس معرفت کو حاصل کرنا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ ہمارا ہر بچہ جو اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو نہیں پہنچتا وہ مظلوم ہے اور ہمارے اوپر اس کی ذمہ داری آتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو ادا کریں۔اللہ تعالیٰ ہماری نوجوان نسل کو اور نئے آنے والوں کو یہ توفیق دے کہ 66 وہ اپنے مقام کو سمجھیں۔“ ۳۔۲۱ جنوری ۱۹۷۵ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے گھوڑ دوڑ ٹورنا منٹ کے انعقاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔” ہم گھوڑوں میں دلچسپی اس لئے نہیں لے رہے کہ ہم گھوڑوں کی پرستش کرتے ہیں نہ اس لئے کہ ہم خدا کو چھوڑ کر یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کو نظر انداز کر کے ہم گھوڑوں سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں گھوڑوں سے اس لئے پیار ہے کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گھوڑوں سے پیار تھا۔تو ہم گھوڑوں کے غلام نہیں ہیں لیکن ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں اور اس غلامی پر ہم فخر کرتے ہیں اور گھوڑوں سے ہم اس لئے پیار کرتے ہیں کہ ہمارے محبوب آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں سے پیار کیا اور اپنے صحابہ میں اس پیار کو اتنا راسخ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔“ ۴ ۲۸ فروری ۱۹۷۵ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے کشمیر کی آزادی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔آج ہماری پوری قوم متحد ہو کر ایک بہت بڑی نا انصافی اور ظلم کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔یہ نا انصافی اس سمجھوتہ سے ہوئی ہے جسے اخبارات ”اندرا عبد اللہ مجھوتہ کا نام دے رہے ہیں۔جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کی ریاست بھارت یونین کا