خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 553
خطبات ناصر جلد ششم ۵۵۳ خطبہ جمعہ ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء بڑی جماعت ہوگئی یاConcentrate ہو گئی یعنی ایک جگہ زیادہ احمدی ہو گئے تو وہ جب کہیں گے حکومت کہے گی ٹھیک ہے تم اپنا براڈ کاسٹنگ سٹیشن تیار کرو اور اپنے علاقے کو ہر وقت ریڈیو پر خبریں دیا کرو، درس قرآن کریم دیا کرو۔بڑا اچھا انتظام ہو جائے گا وہاں سے ہر ملک میں پیسہ بھی جاسکتا ہے اور کتابیں بھی جاسکتی ہیں کوئی پابندی نہیں ہے۔وہاں میرا خیال ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد ( میرا بہت جلد کا مطلب ہے کہ یہ جو پانچ سالہ منصوبہ بڑے منصوبے کے اندر بنا کر آیا ہوں وہاں اس میں ) ان کا پریس لگ جائے گا۔اتفاقاً ایک پریس کا پتہ لگ گیا میں نے لندن کی جماعت احمدیہ کو بھی کہا ہوا تھا کیونکہ انگلستان کی جماعتیں بھی بڑی فعال اور کافی تعداد میں ہیں اور اُن کی آمد کافی زیادہ ہے چندہ عام کی جو آمد ہے اس کے علاوہ بھی جب اُن کو کہا جائے قربانی کرو تو وہ بڑی قربانی کرتے ہیں مثلاً میں نے چندہ کی کوئی اپیل نہیں کی میں نے اپنے خطبہ میں کہا کہ امریکہ میں انشاء اللہ ایک پریس لگ جائے گا۔انگلستان میں بھی ایک پریس ہونا چاہیے تا کہ اس میدان میں یہ بھی آجائے میں باہر نکلا تو ایک صاحب نے کہا ایک ہزار پاؤنڈ میں دیتا ہوں اور اگلے دن اُنہوں نے بذریعہ چیک ادا کر دیئے۔میں نے جماعت کو کہا صد سالہ جو بلی کی مد میں جمع کر لو۔پس وہاں جو ضرورت ہے اس کے مطابق جماعت کام کرنے کے لئے بھی تیار ہے قربانیاں دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ہمارے ملک میں اس سلسلہ میں کچھ پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کرے کہ وہ جلد دور ہو جائیں لیکن میں اس وقت غیر ممالک میں جماعت ہائے احمد یہ کی باتیں سنا رہا ہوں اپنے ملک کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتا۔کینیڈا میں بھی کم و بیش امریکہ جتنی جماعت ہے یعنی تین ، چار ہزار کے درمیان لیکن ایک بھاری اکثریت اُن احمدیوں کی ہے جو پاکستان سے یا ہندوستان سے یا بعض عرب ممالک سے وہاں گئے ہوئے ہیں یا آباد ہو گئے ہیں Immigrants کے طور پر یعنی شہری بن گئے ہیں یا ویسے کام کر رہے ہیں اور وہاں کے شہری نہیں بنے ان کو وہ اجازت دے دیتے ہیں۔اس معاملہ میں اُن کو فراخ دل تو نہیں کہنا چاہیے صاحب فراست ضرور کہنا چاہیے کیونکہ ہر شخص جو اپنے کام میں ماہر ہے اس کو وہ تین دن میں اجازت دے دیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں آجاؤ بلکہ ایک