خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 518

خطبات ناصر جلد ششم ۵۱۸ خطبہ جمعہ ۲۳ / جولائی ۱۹۷۶ء کہ ہم تمہارے دل جیت کر اسلام کو یورپ میں پھیلائیں گے۔اُسے اس جواب کی توقع نہ تھی اس لئے وہ مبہوت ہوئے بغیر نہ رہا۔بہر حال دنیا خواہ کتنی ہی بے توجہی سے کام لے اور دور بھاگے یہ نہیں ہوسکتا کہ اسلام غالب نہ آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر لوگ اسلام کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے تو فرشتے آسمان سے نازل ہو کر انہیں اسلام کی طرف راغب کریں گے۔فی الوقت تو ذہنوں کی تختی صاف ہو رہی ہے تا کہ اسلام کا نقش اچھا جم سکے۔اس ضمن میں حضور نے ایک نہایت ہی اہم ضرورت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت دنیا کو محض اسلامی تعلیم کی نہیں بلکہ اسلام کے عملی نمونہ کی ضرورت ہے جبھی تو پر یس کا نفرنس میں ایک سوال یہ کیا گیا تھا کہ اسلام کی تعلیم تو اچھی ہے لیکن اس کا عملی نمونہ کہیں نظر نہیں آتا۔یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب محض زبان سے نہیں دیا جا سکتا۔وہ تو جبھی مطمئن ہوں گے جب اسلام کا حقیقی عملی نمونہ اُن کے سامنے آئے گا اسی لئے محض عقیدہ کبھی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کی ضرورت ہوتی ہے اور اصل اہمیت عمل ہی کو حاصل ہوتی ہے۔احمدی ہونے کی حیثیت میں ہم پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم اپنی ذاتی فلاح ونجاح کے لئے اسلام پر کماحقہ عمل کریں دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دوسروں کی رہنمائی اور فلاح ونجاح کے لئے اپنی زندگیوں میں اسلام کا حقیقی نمونہ پیش کریں۔اگر ہم یہ مانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے اور احمدیت کے طفیل ہمیں یہ نعمت میسر ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے دلوں میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور اُن کی غمخواری کا جذ بہ بھی بدرجہ اتم موجود ہواور ہمارے اندر دوسرں کی فلاح و نجاح کی تڑپ پائی جاتی ہو۔اس تڑپ کا لازمی تقاضا ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ ہم دوسروں کے سامنے اسلام کی حسین و جمیل تعلیم کا عملی نمونہ پیش کریں اور اس طرح انہیں راہ راست کی طرف لائیں۔پس ہماری یہ ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری ہے کہ ہمیں نہ صرف اپنی ذات کی خاطر بلکہ دنیا کے واسطے رحمت کے دروازے کھولنے کی خاطر اسلام کا دل موہ لینے والا عملی نمونہ اپنی زندگیوں میں پیش کرنا ہے۔اس امر کو مزید واضح کرتے ہوئے حضور نے فرما یا اس میں شک نہیں مالی قربانی بھی اہم