خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 508
خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۸ خطبہ جمعہ ۱۶ جولائی ۱۹۷۶ء نکلے ہیں اور وہاں سے اُنہوں نے اپنے قد اٹھائے ہیں لیکن خدا اور رسول کی خاطر انہوں نے اس ماحول کو چھوڑا ہے ایک جذبہ کے ساتھ ایک ایمان کے ساتھ اُنہوں نے اپنے اس گندے ماحول کو چھوڑا ہے۔خدا کرے کہ ان کو تربیت کے ایسے سامان مل جائیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والے ہوں اور خدا کی نگاہ میں وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں شامل ہونے والے ہو جائیں۔وہ لوگ بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔پھر میں ایک مسجد کا افتتاح بھی کروں گا گوٹن برگ میں بڑی خوبصورت مسجد بنی ہے اس کی بنیاد پچھلے سال رکھی گئی تھی اب وہ مکمل ہو چکی ہے اور انشاء اللہ ۲۰/ اگست کو اس کا افتتاح ہوگا یہ سب باہر والوں کی مالی قربانیوں کا نتیجہ ہے وہ لوگ وقت بھی دیتے ہیں۔جس قدر کام ہو رہا ہے ہمارے پاس تو اس کے مطابق باہر جا کر تبلیغ کرنے والے مبلغ بھی نہیں ہیں۔اس وقت بیسیوں کی تعداد میں رضا کار مبلغ اور آنریری مبلغ جماعت کو مل رہے ہیں اور وہ محبت کے جذبہ کے ساتھ بلکہ محبت سے بھی بڑھ کر تعلّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ اَلَا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: (۴) کے مطابق بخع کے جذبہ کے ساتھ اپنے ماحول میں خدائے واحد و یگانہ کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں اور تو حید خالص کے قیام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول کرے اور اپنی رحمتوں سے انہیں نوازے۔علم کے میدان میں جماعت کو صحیح اور حقیقی معنی میں عالم دماغ کی بے حد ضرورت ہے ان کی کثرت تو نئی نسل ہی پیدا کر سکتی ہے۔جو لوگ حصول علم سے فارغ ہو چکے ہیں وہ تو علم کے میدان میں تعداد کے لحاظ سے زیادتی نہیں کر سکتے۔یہ درست ہے کہ وہ اپنا علم بڑھاتے ہیں ہمارے سامنے نئی سے نئی کتابیں آتی ہیں ہمارے پرانے مبلغ بھی ان کو پڑھتے ہیں اور میں نے بتایا ہے کہ انسان مرتے دم تک علم سیکھتا ہے لیکن تعدا دنئی نسل نے ہی ہمیں دینی ہے پرانی نسل ہماری تعدا دکو نہیں بڑھا سکتی۔ان کے علم بڑھ جائیں گے اور بڑھ رہے ہیں لیکن یہ کہ سو کی بجائے پانچ سو مبلغ میدانِ عمل میں آجائے یہ تعداد ہمارا نوجوان ہی بڑھا سکتا ہے تم دعائیں کرو، دعائیں کرو کہ بشمولیت آپ میں سے ہر ایک کے اللہ تعالیٰ ایسے نوجوان کے دل اس طرف پھیرے کہ جو اُس کی خاطر قربانی