خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 496
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۶ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء اکٹھے ہو کر بڑے بڑے مضبوط پتھر بن جانا اور اس طرح نوع انسانی کا ان مضبوط پتھروں کے ملاپ سے اُمتِ واحدہ بن جانا بڑا عظیم کام ہے اور ہم پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت میرے مضمون کا حصہ نہیں تیسری بات جو اس وقت میں طلبائے درس القرآن کلاس کو کہنا چاہتا ہوں وہ علمی لحاظ سے کچھ حاصل کرنے سے متعلق ہے۔تمام طلباء وطالبات یہاں کچھ علم سیکھنے کے لئے آئے ہیں علم سر چشمہ ہے عمل کا اس لئے وہ یہاں جن اچھی باتوں کا علم سیکھیں اس کے متعلق اپنے دل میں یہ عہد کریں کہ اپنی بھلائی کی خاطر اپنی زندگی میں اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔تم اگر پاک علم کے وارث بننا چاہتے ہو تو نفسانی جوش سے کوئی بات منہ سے مت نکالوکہ ایسی بات حکمت اور معرفت سے خالی ہوگی پس علم سیکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جو بات ہم منہ سے نکالتے ہیں وہ سوچ سمجھ کر نکالیں اور اپنے نفسوں کے جوش کو اپنے قابو میں رکھیں جوش ایک طبعی چیز ہے جو طبعی چیز ہے اسلام کا یہ حکم نہیں کہ اسے فنا کر دیا جائے۔جوطبعی چیز ہے وہ خدا کی عطا ہے اس لئے وہ غلط نہیں ہوسکتی جس چیز کا خطرہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے انسان اس کا استعمال غلط طور پر کر لیتا ہے انسانی طبیعتوں کے اندر ایک جوش ایک جذبہ اور ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو کچھ کرنا چاہیے میں جماعتِ احمدیہ کے ہر چھوٹے اور بڑے سے کہتا ہوں کہ تم اس جوش کو اپنے دائرہ کے اندر رکھو اس کو بے لگام مت چھوڑو تا کہ تمہارے جوش اسلام کی خدمت میں خرچ ہوں۔تمہارے جوش نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ ہوں۔تمہارے جوش لوگوں کی ایذاء پر منتج نہ ہوں تمہارا جوش زبان سے بھی نکلتا ہے ہاتھ سے بھی نکلتا ہے بلکہ اشاروں سے بھی انسان اپنے جوش کا اظہار کر دیتا ہے لیکن ہر وہ اظہار جوش جو غلط طور پر کیا جاتا ہے وہ انسان کو حکمت کے سرچشمہ سے دور سے دور لے جاتا ہے۔پس میں طلبائے درس القرآن سے کہوں گا کہ انہوں نے اسلامی تعلیم کے مطابق صحیح اور حقیقی علم سیکھنا ہو اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلامی تعلیم کے مطابق صحیح اور حقیقی علم ہو تو اس سے ہماری مراد محض دینی علم ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ سب دینی و دنیوی علوم مراد ہیں جن پر عمل کر کے انسان قرآنی تعلیم