خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 495
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۵ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء احسان جتائے بغیر ایک احمدی حکومت وقت کی اطاعت کرتا ہے۔حاکم وقت سے کسی چیز کو حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا نہیں ہوئی گویا وہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی کی ایسے رنگ میں اطاعت کروں گا اور ساتھ خوشامد بھی کروں گا تو مجھے فلاں چیز مل جائے گی۔یہ نہیں ہوگا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور نوع انسانی جو اس کی مخلوق ہے اس کو فساد سے بچانے کے لئے احمدی مسلمان امر کی اطاعت کرتا ہے اور اولی الامر کی اطاعت کرنے والا ہے۔پس اس میں کوئی تضاد نہیں ہے یہ میرے مضمون کے پہلے حصے یعنی توحید کے عین مطابق ہے۔اگر قرآن کریم میں کوئی اور حکم ہوتا تو ہم اس کے مطابق عمل کرنے والے ہوتے لیکن قرآن کریم نے ہمیں کہا ہے اطِیعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ - (النساء :۶۰) اس لئے ہم قانون کی اطاعت کرنے والے ہیں قانون کو ہاتھ میں لینے والے نہیں اور قانون کو توڑنے والے نہیں اور جو صاحب قانون ہے یعنی جسے ہم اولی الامر کہتے ہیں اس کی بھی اطاعت کرنے والے ہیں اور یہ اس لئے کہ یہ بھی ایک پہلو ہے تو حید کے قائم کرنے کا کیونکہ تو حید خالص تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی ہر پہلو سے اطاعت کی جائے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے سینکڑوں احکام میں سے ایک حکم ہے۔پس جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بچوں کے لئے اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے کہ قانون ہاتھ میں نہیں لینا قانون تو ڑنا نہیں۔قانون کا احترام کرنا ہے۔قانون کی عزت کرنی ہے۔قانون شکنی نہیں کرنی۔قانون کی اطاعت اور تابعداری کرنی ہے اور اس طرح اولی الامر کی لیکن جو سمجھدار اور پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ خود سوچیں۔کچھ حکمتیں تو میں نے بتا دی ہیں باقی وہ خود مطالعہ کریں اور غور کے بعد معلوم کریں۔بڑی حکمتیں ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے بلکہ ابھی تک سب سے گہری حکمت جو میرے دماغ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ والا حصہ نہ ہوتا تو جو اس زمانے میں اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس قدرت کا اظہار کرنا تھا یعنی یہ کہ مختلف ملکوں میں بسنے والے انسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں وہ ممکن نہ ہوتا۔اس کے لئے ضروری تھا کہ جس طرح پرانے زمانہ میں بڑے بڑے پتھر رکھ کر قلعوں کی دیوار میں بنائی جاتی تھیں۔اُسی طرح ہر ایک ملک کے باشندوں کا