خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 436
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۶ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۷۶ء ساتھ مجھے یہ بھی لکھا کہ جو آپ نے سیکیورٹی (ضمانت کی رقم ) رکھوائی ہوئی ہے بس اسی کے اندر چھ ماہ کا گزارہ ہو جائے گا۔میں نے انہیں کہا کہ اصل چیز تو اس کی علمی لیاقت میں ترقی ہے اس واسطے اگر تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ اس طرح یہ اور ترقی کر سکتا ہے تو ٹھیک ہے اور چھ ماہ لگائے۔چنانچہ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اس نے اُن کے ساتھ مزید چھ ماہ ریسرچ کی اور اب وہ جماعت کے مشورہ سے انگلستان کی ایک یونیورسٹی میں کام کر رہا ہے لیکن اس نے لکھا تھا کہ آپ کہتے ہیں تو میں یہاں ملا زمت کرتا ہوں ورنہ نہیں۔میرا خیال تھا کہ یہ اور ترقی کرے اور پھر کسی وقت جب اس مضمون میں ہمارے ملک کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ یہاں آ کر اپنے ملک کی خدمت کرے گا۔پس جہاں تک تعصب کا سوال ہے بہت بھاری اکثریت شرفاء کی ہے لیکن بیچ میں عارضی طور پر بچوں کو تکلیف بھی پہنچ سکتی ہے ذہنی پریشانی بھی ہو سکتی ہے کہ پتہ نہیں جماعت ہمیں سنبھالتی ہے یا نہیں؟ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں اور اب بھی بتا دیتا ہوں کہ اے بچو! تم یو نیورسٹی میں ٹاپ کرو اپنے اپنے مضمون میں۔جماعت خدا کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے تمہیں کبھی ضائع نہیں ہونے دے گی۔بات میں یہ بتا رہا ہوں کہ ہمارے بچے کم عمر تھے جن کو آگے ترقی کرنے کا شوق بھی ہوتا ہے کہ وہ کچھ بن کر دکھا ئیں۔یونیورسٹی میں چوتھی پوزیشن لینے والے بچے ،مگر جب ان کو یہ کہا گیا کہ اسلام چھوڑو اور یہ اعلان کرو کہ ہم مسلمان نہیں تو غیر مسلموں کے لئے جو ریز روسیٹیں ہیں اس میں ہم تمہیں داخل کر لیں گے تو اُنہوں نے کہا اسلام تو ہماری زندگی ہے، اسلام تو ہماری روح اور جان ہے، اسے چھوڑ کر پھر زندگی کا کیا مزہ ہے اور داخل ہونے کا کیا مطلب؟ یہ تو ہم نہیں کریں گے۔پھر اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے یہیں سامان پیدا کر دیئے۔گو پہلے ہائیکورٹ میں جانا پڑا لیکن بعد میں قانون بدل گیا تاہم مجھے بڑی شرم آتی تھی کہ کسی وجہ سے سہی مگر ہمارا ملک ان بچوں کی ذہانت کی قدر نہیں کر رہا اور انہیں اپنا حق لینے کے لئے ( پیسے کا نہیں ) اپنے ذہنی ارتقاء میں جو روک پیدا ہوگئی ہے اُسے دور کرنے کے لئے اُن کو ہائیکورٹ میں جانا پڑا اور روک پیدا کرنے والے خود اپنی ہی قوم کے لوگ تھے۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قوم کو عقل اور