خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 430
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۰ خطبہ جمعہ ۳۰ را پریل ۱۹۷۶ء ہے کہ وہ مہدی جس کی بشارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے إِنَّ لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ کے علاوہ اور بہت سے دوسرے ارشادات میں دی تھی ، وہ مہدی علیہ السلام آگئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پوری ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس مہدی علیہ السلام پر ایمان لائیں۔ہمارا یہ ایمان اُس محبت کا تقاضا ہے جو ہمارے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پائی جاتی ہے۔اس محبت کے نتیجہ میں ہم اس پر ایمان لائے جس کے متعلق ہمارے پیارے اور محبوب آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:۔إِنَّ لِمَهْدِينَا آيَتَيْنِ ہمارے مہدی کے لئے دو نشانیاں ہیں۔اس طرز بیان میں بڑا پیار پایا جاتا ہے غرض حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مہدی کے لئے بڑے پیار کا اظہار فرمایا ہے اور اس کے متعلق آپ نے بہت سی بشارتیں دی ہیں۔آپ نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر فرمایا تھا کہ مہدی اس آخری زمانہ میں آئے گا جس میں اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنا مقدر ہے اور وہ اُن روحانی ہتھیاروں کے ساتھ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُن برکات کے ساتھ اور آپ کے طفیل ان آسمانی نشانات کے ساتھ اور آپ کے لائے ہوئے قرآن کریم کی اُن حج قاطعہ کے ساتھ آئے گا جن کا مقابلہ اُس وقت کے مذاہب نہیں کر سکیں گے اور اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اسلام کو غالب کرنے کے سامان پیدا کرے گا۔ہوگا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام ، ہو گا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک روحانی فرزند ، مگر ہوگا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نہایت ہی پیارا اور محبوب جرنیل جو آخری زمانے میں روحانی ہتھیاروں کے ساتھ اسلام کی جنگ لڑے گا۔اس کے ہاتھ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا جھنڈا ہوگا اور اسی جھنڈے کو غالب کرنے کے لئے ساری سعی کی جائے گی۔یہ ہمارا عقیدہ ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے۔اس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے اس کا آپ کے مہدی کے ساتھ کیا تعلق باقی رہ جاتا ہے۔یہ بات تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس کی وجہ سے اور جس کی محبت کے نتیجہ میں اور جس کے حکم کے ماتحت اور جس کی بشارتوں کو اور پیشگوئیوں کو پورا ہوتا آنکھوں کے سامنے پاتے ہوئے ایک جماعت مہدی علیہ السلام پر ایمان لائی ہے۔ان تمام باتوں کو چھوڑنے کے بعد اور