خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 428 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 428

خطبات ناصر جلد ششم ۴۲۸ خطبہ جمعہ ۲۳ را پریل ۱۹۷۶ء سامنے اس نے اسلامی تعلیم کو پیش کیا اور پنجابی میں ایک بڑا پیارا محاورہ ہے ” پھورنا‘ اس نے آہستہ آہستہ دنیا کی طاقتوں کو پھورنا شروع کیا اور قرآن کریم نے ہمیں کہا کہ اَو لَمْ يَروا انا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: (۴۲) خدائی تقدیر کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح آہستہ آہستہ خدائی سلسلوں کا قدم ترقی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اور پھر جس طرح بارش مختلف اوقات میں ایک کچی دیوار کے نچلے حصے کو کھودتی ہے یعنی بارش کی وجہ سے تھوڑی سی مٹی بہہ جاتی ہے ایک وقت آتا ہے کہ وہ دیوار اپنے پاؤں پر گر جاتی ہے اسی طرح دنیا کی طاقتوں کی حقیقت کچی دیوار سے زیادہ نہیں ہے اور آہستہ آہستہ وہ عمل شروع ہو چکا ہے کہ عقلمند آدمی جو کہ صاحب فراست روحانی ہے وہ دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو وعدے کئے تھے ان کے پورا ہونے کے ایام آچکے ہیں۔لیکن اور یہ لیکن بڑا اہم ہے جو ذمہ داری جماعت احمدیہ پر ہے وہ تو اپنی جگہ پر ہے۔اس واسطے آپ ان چیزوں کو سامنے رکھا کریں کہ آپ اپنے زور اور طاقت کے ساتھ وہ کام نہیں کر سکتے کہ جو خدا تعالیٰ خدائی طاقت کے ساتھ آپ سے کروانا چاہتا ہے وہ ایک لحظہ اور ایک سیکنڈ جس میں آپ اپنے رب کریم سے دور چلے جائیں وہ آپ کے لئے انفرادی طور پر یا آپ کے خاندان کے لئے یا آپ کے گروہ کے لئے ہلاکت کا باعث بنے چوکس رہ کر اس ہلاکت سے بچنے کی کوشش کریں اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور یہ کہتے ہوئے جھکے رہیں کہ اے خدا ! جو کام تو نے دیا ہے اس کی اہمیت کو ہم سمجھتے ہیں اور اپنی بے بسی کو ہم جانتے ہیں ہم اپنے زور سے یہ نہیں کر سکتے تیری مدد اور نصرت کے بغیر یہ مہم سر نہیں ہو سکتی اس لئے اپنے وعدہ کے مطابق تو ہماری مدد کو آ۔اس لئے نہیں کہ ہم اپنے لئے کچھ چاہتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس غلبہ کو چاہتے ہیں جس کا تو نے وعدہ دیا کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔انشاء اللہ اسلام پھیلے گا۔خدا کرے کہ وہ دن جلد آئے۔رونامه الفضل ربوه ۲۸ مئی ۱۹۷۶ ، صفحه ۲ تا ۶ )