خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 427
خطبات ناصر جلد ششم ۴۲۷ خطبه جمعه ۲۳ ۱٫ پریل ۱۹۷۶ء آمیز بیانات دیتے ہیں یا بعض دفعہ اپنے ملک کو خوش کرنے کے لئے بھی سیاسی لیڈر ایسا کرتے ہیں۔فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ یہ لوگ ناکامی کے عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے اور جو لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والے ہیں اور خدا تعالیٰ کی جماعت ہیں وہی خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کامیاب ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ تمام قدرتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہ علی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہے جس چیز کو چاہے اسے کر دیا کرتا ہے اور کوئی اسے نا کام کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے اور اس کے منشاء کے مطابق ہر کام ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اسلام کے غلبہ کے لئے اس زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا محبوب ترین روحانی فرزند مهدی پیدا ہو تو مہدی پیدا ہو گیا۔اس نے چاہا کہ اس مہدی کی اس ظاہری اور ماڈی دنیا میں اس قدر مخالفت ہو کہ اس کی کامیابی کا کوئی امکان ظاہری آنکھ کو نظر نہ آئے تو وہ مخالفت پیدا ہوگئی اور پھر اس نے یہ چاہا کہ اس کے باوجود جو کچھ ظاہری آنکھ نے دیکھا تھاوہ نہیں ہوگا اور مہدی نا کام نہیں ہوگا۔مہدی کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے جیسا کہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں مختلف میدانوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی جھنڈے تھے۔کسری کے مقابلہ میں مسلمان فوجوں کے جو سپہ سالار تھے ان کے ہاتھوں میں جو جھنڈے تھے یا قیصر کے مقابلہ میں شام کے میدانوں میں مسلمانوں کے سپہ سالاروں کے ہاتھوں میں جو جھنڈے تھے وہ ان کے اپنے تو نہیں تھے اور نہ خلفائے وقت کے تھے بلکہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تھے۔اسی طرح آج اسی معنی میں محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا جھنڈا مہدی کے ہاتھ میں ہے۔خدا نے یہ چاہا کہ دنیا کی طاقتوں کو اس کے خلاف کھڑا کرے اور دنیا کو یہ بتائے کہ اگر تم سارے اکٹھے ہو کر بھی میری اس سکیم اور میرے اس منصوبہ کو نا کام کرنے کی کوشش کرو گے تو تم نا کام ہی ہو گے چنانچہ مہدی جوا کیلا تھاوہ ایک سے دو ہوا پھر دو سے دو ہزار بنا پھر دو ہزار سے دولاکھ بنا۔وہ محض ہندوستان میں تھا پھر وہ باہر نکلا اور آج وہ ساری دنیا میں پھیل گیا اور جیسا کہ اس کو حکم تھاوہ پیار کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اسلام کے حسن کو ایک ہاتھ میں لے کر اور اسلام کی قوتِ احسان کو دوسرے ہاتھ میں لے کر باہر نکلا اور دنیا کے