خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 423 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 423

خطبات ناصر جلد ششم ۴۲۳ خطبہ جمعہ ۱/۲۳ پریل ۱۹۷۶ء یہ حکم دیا ہے کہ تم ان سے مقابلہ کرو اور اسلام کو غالب کرو آج احمدیت کی طاقت اس سے بھی کم ہے لیکن خدا نے ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ گھبرانے کی بات نہیں۔بے شک یہ قومیں، یہ گروہ اور یہ افراد بڑے طاقتور ہیں لیکن میری طاقت سے تو ان کی طاقت زیادہ نہیں اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔اگر یہ حسین اور یہ میٹھی اور یہ شیریں آواز ہمارے کانوں میں نہ پڑے تو دو میں سے ایک نتیجہ ضرور نکلے یا تو لوگ احمدیت کو چھوڑ کر بھاگ جائیں اور یاوہ پاگل ہو جائیں کیونکہ دنیوی عقل ان حالات میں جماعت احمدیہ کی کامیابی کا تصور بھی نہیں کر سکتی لیکن جماعتِ احمد یہ کو صرف دنیوی عقل نہیں دی گئی بلکہ جماعت احمدیہ کو روحانی اور اخلاقی فراست عطا کی گئی ہے، جماعت احمدیہ کو قرب الہی میٹر ہے جماعت احمدیہ کے کان میں خدا تعالیٰ کے فرشتے آ کر خدا کا کلام نازل کرتے ہیں اور جماعت احمدیہ کو تسلی دینے والا وہ ہے جس کی طاقت اور جس کی قدرت سے کوئی شئے کوئی ہستی بلکہ ساری کائنات بھی باہر نہیں رہ سکتی۔اگر یہ چیز نہ ہو تو پھر تو ہماری زندگی کوئی چیز نہیں اور اگر یہ بشارتیں نہ ہوں تو ہماری زندگی میں کوئی مزہ نہیں کیونکہ پھر سوائے گھبراہٹ اور پریشانی کے ہمارے مقدر میں اور کیا رہ جاتا ہے لیکن ہمیں قرآن کریم نے بار بار یہ کہا ہے کہ کام بڑا سخت ہے، دنیا کی نگاہ میں انہونا ہے لیکن میں تمہیں کہتا ہوں کہ میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کام کو پورا کرنے کے لئے تم کھڑے ہو جاؤ اور جو تمہاری بساط ہے اس کے مطابق تم قربانیاں دو تو خدا کے فضل سے تم کامیاب ہو جاؤ گے لیکن ہر قسم کی قربانی دے کر۔مال کی ،عزت کی ، اوقات کی ، اعزہ کی رشتہ داروں کی اور دوستوں کی ہر قسم کی قربانی دے کر بھی یہ نہ سمجھنا کہ تم نے کچھ کیا ہے کیونکہ جو کام تمہارے سپرد ہے اور جتنی اہم ذمہ داری ہے اس کے مقابلہ میں تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔پس فخر اور غرور نہ آجائے اور اگر دنیا تم سے مذاق کرے تو تم پرواہ نہ کرنا اور وہ مذاق کرے گی کیونکہ طاقتوں کا آپس میں مقابلہ ہی نہیں ہے اور پھر جو طاقت ہمارے پاس ہے وہ تو کسی کو نظر ہی نہیں آتی وہ تو روحانی طاقت ہے دنیا کی نگاہ ہماری طاقت کو صفر کے برابر بھی نہیں سمجھتی وہ تو مائینس (Minus) پر سمجھتی ہوگی یعنی صفر سے بھی نیچے گری ہوئی۔پھر بعض دفعہ شیطان یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ جو کام انسان نے نہیں کیا ہوتا وہ اس کے متعلق بھی شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔قرآن کریم نے اس سے