خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 412
خطبات ناصر جلد ششم ۴۱۲ خطبہ جمعہ ۱۶ را پریل ۱۹۷۶ء عطا کی ہے اس بات کی کہ وہ یہ ثابت کریں کہ واقعہ میں یہ مشترک ہے اور ثابت کریں عقلی دلائل کے ساتھ اور ثابت کریں خود اُن کی کتب کے حوالوں کے ساتھ۔چودہ سو سال سے اُمت محمدیہ اپنی شاہراہ تاریخ پر چلتی رہی ہے اور لاکھوں کروڑوں انسان ایسے نظر آتے ہیں جو اس بات کے اہل تھے اور انہوں نے یہ ثابت کیا کہ قل کا لفظ یوں ہی استعمال نہیں ہوا بلکہ اس کے مخاطب ہمیشہ خدا تعالیٰ نے موجود ر کھے ہیں اور اگر اس کے باوجود لوگ ان دلائل کو نہ مانیں اور اپنی فطری فراست کے خلاف بات کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور جو دوسرے نشان خدائے واحد و یگانہ کی ہستی کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہیں وہ دیکھیں پر نہ دیکھیں۔محض عقلی دلائل کافی نہیں بلکہ ہمارا زندہ خدا اپنے وجود پر آسمانی نشانوں کے ذریعہ مہر ثبت کرتا ہے۔اپنی زندہ طاقتیں انسانوں کے سامنے ظاہر کرتا ہے اور انسان مجبور ہو جاتا ہے یہ ماننے پر کہ واقعی خدا تعالیٰ ہے کیونکہ وہ اپنی ہستی کے نشان دکھاتا ہے اور شمار نہیں ہو سکتا اُن آسمانی نشانوں کا جو امت محمدیہ کو مد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ملے۔اُن کا بالکل شمار نہیں ہو سکتا اور یہ میں کوئی مبالغہ نہیں کر رہا واقعہ میں شمار نہیں ہوسکتا۔یہ تو لمبی بات ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل جماعت احمدیہ کو جو نشان ملے ان کا بھی شمار نہیں ہوسکتا اور شمار کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔جس آدمی نے پیسہ پیسہ جوڑا ہو وہ شمار کیا کرتا ہے اور گنتا ہے اپنی دولت کو اور کہتا ہے میرے پاس دس ہزار روپے ہو گئے ہیں ، میرے پاس پچاس ہزارروپے ہو گئے ہیں، میرے پاس دس لاکھ یا ایک کروڑ یا پانچ کروڑ روپے ہو گئے ہیں۔گویاوہ اپنی دولت کا شمار کرتا رہتا ہے اور اسی طرح جو لوگ کنوؤں سے جھجھریاں سروں پر اُٹھا کر لاتے ہیں ( بعض علاقوں میں زمیندار مرد اور عورتیں کنوئیں سے پانی لے کر آتی ہیں ) اُن کے گھروں میں بھی پانی کا شمار ہوتا ہے کہ تین گھڑے ہیں یا چار گھڑے ہیں اور بعض دفعہ ماں بچوں کو کہتی ہے دیکھنا تھوڑا سا پانی رہ گیا ہے ابھی پانی لانے میں دیر ہے اس لئے احتیاط سے استعمال کر ولیکن جو آدمی صاف اور شفاف پہاڑی چشمے کے کنارے بیٹھا ہو اس کے تو پانی کا شمار نہیں ہوتا کیونکہ وہ گھڑوں میں پانی سنبھال کر نہیں رکھتا اس کے لئے تو ہر وقت پینے والا برف کی طرح ٹھنڈا بالکل صاف اور ہر قسم کی ملاوٹوں سے پاک پانی میٹر ہے۔پس جس آدمی کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو