خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 375

خطبات ناصر جلد ششم ۳۷۵ خطبہ جمعہ ۲۶ مارچ ۱۹۷۶ء لئے کہنے لگا اچھا تو پھر پڑھاؤ کلمہ تو وہ آگے سے کہنے لگا اوہو! کلمہ تو مجھے بھی نہیں آتا۔تو بڑا خوش قسمت ہے تیری جان بچ گئی ورنہ یا تو کلمہ پڑھتا یا میں تجھے مار دیتا۔پس جبر کے زور سے اسلام منوانے والے، اسلام کی حقانیت کے روشن نشانات سے خود بے نیاز ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بڑا پرانا اور مشہور قصہ ہے لیکن اس میں ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ جس شخص کو اسلام کے حسن واحسان کا علم نہیں وہ چھرے یا تلوار یا طاقت یا ایٹم بم سے دل کے عقائد بدلنے کی کوشش کرے گا۔حالانکہ دین کے بارہ میں جبر سے کام لینے کی ہرگز اجازت نہیں ہے۔لا اكراه في الدین کے کئی تفسیری معنے لئے جاسکتے ہیں۔دین کے معنے اگر دل سے اطاعت کے لئے جاویں اور یہ لغت عربی کی رو سے صحیح ہیں۔تو یہ امر واضح ہے کہ اطاعت میں جبر ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اطاعت کا تعلق اخلاص سے ہے اور اخلاص کا تعلق دل سے ہے اور دل کا کوئی تعلق طاقت سے نہیں یعنی زبان سے تو ز بر دستی کہلوایا جا سکتا ہے اگر کوئی بزدل قابو آ جائے لیکن دلی اخلاص کے ساتھ زبردستی اطاعت نہیں کروائی جاسکتی۔اس کے لئے اخلاقی اور روحانی طاقتیں ہیں جن کی ضرورت پڑا کرتی ہے۔پس ایک یہ جبر ہے جس کی قرآن کریم میں تردید کی گئی ہے یعنی کسی کو زبر دستی مسلمان بنانے کی ممانعت کی گئی ہے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر رحم کرے جو ز بر دستی مسلمان بنانے کی کوشش کرتے ہیں اسلام کو تو کسی مادی قوت اور طاقت کے استعمال کی جیسا کہ میں نے ابھی مختصر لیکن ذرا وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، ضرورت ہی نہیں کیونکہ اسلام کو اپنی صداقت منوانے کے لئے زبر دست دلائل دیئے گئے ہیں اور آسمانی نشانوں کا سلسلہ قیامت تک ممتد ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد آسمانی نشانات کے پہلے سلسلے ختم ہو گئے اور آپ ایک زندہ نبی کی حیثیت سے دنیا میں آئے اور آپ کا روحانی فیض قیامت تک جاری ہے اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے آج کے دن سے پیچھے دیکھیں تب بھی کوئی زمانہ خالی نہیں آسمانی نشانات سے، اور مستقبل کی طرف فراست کی تیز شعاعیں ڈالیں تب بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ کوئی زمانہ خالی نہیں ہوگا۔ایک وقت تھا جب عیسائی مناد ہندوستان میں جہاں اُس وقت انگریزوں کی حکومت تھی ،