خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 374
خطبات ناصر جلد ششم ۳۷۴ خطبہ جمعہ ۲۶ / مارچ ۱۹۷۶ء کے درمیان ایک بین اور نمایاں فرق کر کے بتا دیا گیا ہے اسی مفہوم کو سورۃ بقرہ ہی میں ایک دوسری جگہ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرۃ:۱۸۶) کہ جو علومِ دین ایسے تھے جن سے دنیا واقف نہیں تھی قرآن کریم ان علوم کو لانے والا ہے چونکہ یہ ھدی للناس ہے اور بَيِّنَتِ مِنَ الْهُدی جن دینی ہدایات میں اجمال پایا جاتا تھا اور کچھ پہلوضرورت زمانہ کی وجہ سے پہلے نمایاں نہیں کئے گئے تھے قرآن کریم نے اس اجمال کی تفصیل بتائی اور اُن مشتبہ چیزوں کی وضاحت کر دی اور پھر فرمایا یہ الفرقان ہے قرآن کریم حق اور باطل میں ایک امتیاز پیدا کرتا ہے کیونکہ قرآن کریم یا اسلامی شریعت میں اس قدر زبردست دلائل ہیں اور اسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانات کا اتنا وسیع سمندر عطا کیا گیا ہے کہ ان دلائل اور ان آسمانی نشانات کے بعد اسلام کو اپنی اشاعت کے لئے کسی مادی طاقت اور قوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہاں جو لوگ دلائل سے غافل اور آسمانی نشانات کے حصول کی اہلیت نہیں رکھتے وہ دھوکا کھاتے ہیں۔قرآن کریم نے دلیل کے ساتھ (چند باتیں میں نے بیان کی ہیں ورنہ قرآن کریم کے سارے دلائل تو میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا ) انسان کے سامنے یہ بات بڑی وضاحت اور زور سے رکھی کہ اسلام کو ، قرآن کریم کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا دین پھیلانے کے لئے کسی جبر کی ضرورت نہیں ہے فرما یا لا اکراہ فی الدین۔دین کے بارہ میں جبر جائز نہیں لیکن انسان بھی کیا عجیب ہے؟ اس عظیم اعلان کے باوجود اور اس عظیم اعلان کے حق میں زبر دست دلائل کے ہوتے ہوئے جبر کرنے کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ہم ایک کہاوت سنا کرتے تھے کہ کسی آدمی کو موقع مل گیا اُس نے ایک غیر مسلم کو قابو کیا اور چھر انکال کر کہنے لگا پڑھ کلمہ۔وہ حیران کہ یہ کیا بات ہوئی کہ چھرے کے زور پر مجھے کہتا ہے پڑھ کلمہ۔خیر اُس نے کوئی دلیل دینی چاہی اور کہا مجھے سمجھاؤ تو سہی مگر اُس نے کہا یا تو کلمہ پڑھو یا میں چھرے سے تمہاری گردن کا تا ہوں۔چنانچہ جب اُس نے یہ دیکھا کہ یہ شخص سنجیدگی کے ساتھ چھری کی دھار پر مجھے اسلام قبول کرنے پر آمادہ کرنا چاہتا ہے تو چونکہ اُس نے جان بچانی تھی اس