خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 362 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 362

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۲ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء قضا وقدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا اور باندھ دیا ہے سلسلہ نظام قدرت سے مراد وہ قوانین قدرت ہیں جو ہمیں اس کا ئنات میں جلوہ گر نظر آتے ہیں اور میں نے بتایا تھا کہ قوانین قدرت نہایت ہی حکیمانہ آثار صفات کا نام ہے۔گویا سنت اللہ یا عادت اللہ ہی کو قوانین قدرت کہا جاتا ہے اور نظام قدرت کا جو سلسلہ ہے اس میں ہمیں اسباب کام کرتے نظر آتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے اپنی صفات کے آثار کو اس طرح پر ظاہر کیا ہے کہ اس نے کچھ اسباب مقرر کئے ہیں جن سے نتیجہ نکلتا ہے اور اس کا ئنات میں بنیادی طور پر تدریج کا اصول قائم کیا گیا ہے مثلاً آم کی گٹھلی ہے وہ زمین میں لگائی جاتی ہے، اگر اس کو اسباب میسر آجائیں تو وہ زندہ رہتی ہے اور اگر اسباب میسر نہ آئیں تو اس گٹھلی سے جو آم کا درخت پھوٹا ہے وہ اپنی ابتدائی عمر میں ہی مرجاتا ہے۔پھر اگر اسباب میسر آتے رہیں تو وہ درخت بڑھتا رہتا ہے، پھر اسباب میسر آتے رہیں تو ایک خاص عمر کو پہنچ کر جو تقدیر میں مقدر ہے اس کے شگوفے نکلتے ہیں، پھول آتے ہیں اور وہ پھل دینے لگ جاتا ہے پھر وہ ایک خاص عمر تک پھل دیتا رہتا ہے۔پھر ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں کہ اُس آم کی عمر ڈھلنے لگتی ہے اور پھل کم ہونے لگتا ہے اور ٹہنیوں میں خشکی کے آثار آنے لگتے ہیں اور زندگی کی طراوت کم ہونی شروع ہوتی ہے اور پتوں کا حسن ماند پڑنے لگ جاتا ہے اور پھر ایک عمر گزار کے وہ درخت مرجاتا ہے۔پس اس کائنات میں تدریج کا اصول اور اسباب مقرر ہیں اور اس کو ہم قانونِ قدرت کہتے ہیں اور قضا و قدر کو ان اسباب کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے :۔خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان : ۳) ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اس کے لئے ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اندازوں سے تو کوئی چیز باہر نہیں جا سکتی لیکن خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اندازوں کے اندر رہتے ہوئے اور ان کے مطابق ہی زندگی Unfold ہوتی ہے اس کے خفیہ خواص ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ایک بالکل چھوٹے سے پیج یا گٹھلی سے زندگی شروع ہوتی ہے اور پھر وہ نشو ونما پاتی ہے۔اسی گٹھلی کے اندر یہ انتظام ہے کہ ہزاروں بلکہ شاید لاکھوں پنے اپنے اپنے وقت کے اوپر نکلتے ہیں مثلاً آم کے درخت کے سارے پتے