خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 361

خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۱ خطبہ جمعہ ۵/ مارچ ۱۹۷۶ء اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے نظام قدرت میں قضا و قدر کو اسباب سے وابستہ کر دیا ہے خطبه جمعه فرموده ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔کیا قضا و قدر کے مسئلے کے نتیجہ میں انسان کی زندگی میں جبر پایا جاتا ہے اور وہ صاحب اختیار نہیں رہتا ؟ عام طور پر عیسائی یہ اعتراض کرتے آئے ہیں کہ چونکہ اسلام نے تقدیر پر اور قضا وقدر پر ایمان لانے کی تعلیم دی ہے اسلئے اسلام جبر کا قائل ہے اور انسان کو صاحب اختیار نہیں سمجھتا اور اگر انسان صاحب اختیار نہیں ہے تو پھر جزا سزا اور دوسرے مسائل خود بخو د ساقط ہو جاتے ہیں۔جنت کس کو ملے گی اور کس کو نہیں ملے گی ، یہ سوال ہی ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اگر ہر فعل انسان نے بامر مجبوری کرنا ہے اور اپنے عمل میں وہ صاحب اختیار نہیں ہے تو پھر اس کو اجر کیسا اور ثواب کیسا لیکن غیر مذاہب اور خصوصاً عیسائیت ہی نہیں بلکہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں میں سے بھی بعض اس مسئلے کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے آئے اور اُمت مسلمہ کے اندر اس قسم کے گروہ پیدا ہوتے رہے ہیں جواس بارہ میں شکوک وشبہات میں مبتلا رہتے رہے چنانچہ اس وقت میں قضا وقدر اور جبر کے مسئلے پر کچھ کہوں گا انشاء اللہ۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ سے سلسلہ نظامِ قدرت میں