خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 353 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 353

خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۳ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء جاتی ہے مثلاً ایک شخص بیمار ہے وہ دوائی استعمال کرتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے کچھ آثار دوائی کے اندر پائے جاتے ہیں جن کو خواص اشیاء کہتے ہیں وہ دراصل آثار الصفات ہیں۔مثلاً ایک تو یہ کہ دل کا جو گوشت یا پیٹھہ ہے خدا تعالیٰ کی صفت نے اس کی طاقت کا سامان اس کے اندر رکھ دیا ہے دوسرے یہ کہ ہر فرد کے دل کے لئے علیحدہ علیحدہ حکم چلتا ہے اور دل کا جو گوشت ہے اس کے اندر یہ صفت رکھی گئی کہ دوائی کے اثر کو قبول کرے۔اس صفت کے بغیر اس کا علاج ہو ہی نہیں سکتا۔دوائیوں کا انتخاب ہمیں یہ سمجھاتا ہے۔دیکھو جو ڈاکٹر ہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ میرے جیسا عام آدمی بھی سمجھ لیتا ہے کہ بعض دوائیاں ایسی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں کہ وہ صرف دل کے گوشت پر اثر انداز ہوں گی ہمارے بازو کے گوشت پر اُن کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔اس لئے کہ دل کے گوشت میں خدا تعالیٰ کی اُسی صفت کا جلوہ ظاہر ہوا ہے جو اُس دوائی کے اثر یا صفت میں ظاہر ہوا تھا۔اسی لئے دل دوائی کے اثر کو قبول کرتا ہے۔جب خدا تعالیٰ کسی کا امتحان لینا چاہے اصلاح کی خاطر اصل تو اس کی رحمانیت ہے لیکن کبھی انسان خود خدا تعالیٰ کے قہر اور غضب کو بلاتا ہے اور خدا تعالیٰ اصلاح کی خاطر کہ آخر تم میری طرف رجوع کرو گے تو دین ودنیا تمہیں ملے گی اُس کے بچے کو بیمار کر دیتا ہے۔اب خدا نے اس کو بڑی دولت دے رکھی ہے لیکن خدا کہتا ہے تیری دولت تیرے بچے کو نہیں بچاسکتی۔ساری دنیا کے علاج اس کو نہیں بچا سکتے۔دوستوں نے سنا ہوگا بعض دفعہ پاکستان میں بھی بعض لوگ امریکہ کے ڈاکٹر بلاتے ہیں اور لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں۔خدا کہتا ہے دولت تمہیں دی ہے لیکن تیرے بچے کی صحت تیری دولت پر منحصر نہیں ، میرے حکم پر منحصر ہے۔چنانچہ ایک طرف دوائی کو یہ حکم ہوتا ہے کہ تو اثر نہ کر۔یہ خدا تعالیٰ کی صفت کا جلوہ ہوتا ہے کہ انسان جو دوائی کھا رہا ہوتا ہے اس کا اثر نہیں ہوتا دوسری طرف ایک اور جلوہ ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا اس کے دل کو کہتا ہے دوائی کے اثر کو قبول نہ کر۔اب ساری دنیا علاج میں لگی ہوئی ہے لیکن آرام نہیں آتا۔پھر اگر اور جب خدا تعالیٰ کا ایک کامل بندہ اس کے لئے دعا کرتا ہے تو دونوں طرف کے جذب کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اس سے پیار کا یہ سلوک کرتا ہے کہ اس کی خاطر طبعی اسباب پیدا کر دیتا ہے اور پھر وہ دوا میں اثر پیدا کر دیتا ہے۔