خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 348

خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۸ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء ہم بڑی بڑی ملوں کا آٹا استعمال کریں گے تو چونکہ اس کے بعض صحت مند اجزاء ضائع ہو جانے کی وجہ سے اس میں تھوڑا سا فرق پڑ جائے گا اس لئے وہ ہماری صحتوں پر اثر انداز ہوگا۔جولوگ گھر کی چکیوں کا آٹا پیس کر کھایا کرتے تھے اُن کی صحتیں اچھی رہتی تھیں۔اب بھی اگر اسی قسم کا آٹا ملنے لگ جائے تو لوگوں کی صحتیں اچھی ہو جائیں گی۔پس نظام قدرت میں قضا و قدر کو اسباب کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔جہاں تک جسمانی اسباب کا تعلق ہے اُن کو ہم سمجھتے بھی ہیں اور اس کے اوپر تو ہم آنکھیں بند کر کے عمل بھی کرتے ہیں حتی کہ وہ لوگ بھی جو کہتے ہیں دعا میں تاثیر نہیں۔وہ کبھی یہ نہیں کہتے کہ بچہ بیمار ہے قضا و قدر میں ہو گا یا مقدر میں ہوگا تو بچ جائے گا ورنہ مرجائے گا بلکہ وہ اُس کے لئے تڑپ رہے ہوتے ہیں کبھی ایک ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں کبھی دوسرے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور کبھی عقل کی حدود پچھلانگ کر گنڈے اور تعویذ کرنے والوں کے پاس بھی چلے جاتے ہیں۔غرض بعض لوگوں کا یہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ نے جو جسمانی اسباب مقرر کئے ہیں یعنی ایک مسبب ہے اور دوسرا اس کا سبب اور یہ ایک سلسلہ ہے جو جاری ہے یہ تو ضروری ہے لیکن روحانی طور پر دعا سبب نہیں اور اس میں کوئی اثر نہیں۔ایک صاحب فراست مومن اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہ تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ اگر ہا کی سے کھیلنا ہے تو شہوت کا درخت جس سے ہاکی بنائی جاتی ہے وہ لگانا پڑے گا ورنہ ہا کی نہیں بنے گی۔اس دنیا میں خدا تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے مادی سامان پیدا کئے ہیں۔قانون قدرت یا قضا و قدر یہ ہے کہ ان سامانوں کے ذریعہ ہم اپنی حاجتوں کو پورا کرتے ہیں اور اپنی ترقیات کے سامان پیدا کرتے ہیں مثلاً ستر کا حکم ہے ننگ ڈھانکنے کے لئے کپڑے کی ضرورت ہے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ اگر قسمت میں ہوا تو خود ہی پردہ ہو جائے گا کپڑے پہننے کی کیا ضرورت ہے۔تو لوگ اسے کہیں گے کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ لیکن جب وہ یہ کہے دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے تو یہ گویا ایک وسوسہ ہوتا ہے جو شیطان اس کے دل میں ڈالتا ہے ورنہ دنیا میں مسببات اور اسباب کا ایک بڑا لمبا سلسلہ جاری ہے۔ایک چیز دوسرے کو پیدا کر رہی ہے ایک چیز دوسرے کا سبب بن رہی ہے اور یہ ایک بڑا لمبا سلسلہ ہے جس میں