خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 347
خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۷ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء آثار صفات الہیہ ہی کو سنت اللہ بھی کہتے ہیں اور قوانین قدرت بھی کہتے ہیں۔گو یا خدا تعالیٰ کی ازلی ابدی صفات ہی کے موافق خدا تعالیٰ کے کام ہیں اور ان ازلی ابدی صفات کے موافق خدا تعالیٰ کے جو کام ہیں انہی کو ہم سنت اللہ کہتے ہیں۔جب ہم خدا تعالیٰ کی ان آثار الصفات پر یا اس سنت اللہ پر یا ان قوانین قدرت پر غور کرتے ہیں تو نظام قدرت میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قضاء وقدر کو اسباب کے ساتھ بڑی مضبوطی سے باندھ دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان روٹی کھائے گا تو اس کا پیٹ بھرے گا۔یہ سنت اللہ بھی ہے اور قانونِ قدرت بھی ہے اور یہی قضاء وقد ربھی ہے اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم روٹی نہ کھائیں اور امید یہ رکھیں کہ مقدر ہوگا تو آپ ہی پیٹ بھر جائے گا۔کیسے بھر جائے گا؟ جب کہ خدا تعالیٰ نے قضاء و قدر کو نظام قدرت میں اسباب کے ساتھ باندھ دیا ہے۔یہ اسباب جن کے ساتھ قضاء وقدر کو وابستہ کر دیا گیا ہے، روحانی بھی ہیں اور جسمانی بھی۔پانی ایک مخلوق ہے۔خدا تعالیٰ نے پانی پیدا کیا ہے۔پانی سے ہم ہزاروں فائدے اٹھاتے ہیں۔پانی سے انسان اپنی پیاس بھی بجھاتا ہے۔پانی انسان اپنی میل کو بھی دور کرتا ہے۔جمعہ کے دن نہانے کا حکم ہے اور صاف کپڑے پہن کر مسجد میں آنے کا حکم ہے۔غرضیکہ پانی کو ہم مختلف طریق سے استعمال کرتے ہیں۔پانی سے ہم کھیتوں کو سیراب بھی کرتے ہیں گندم جس کے اُگانے کے لئے پانی کی ضرورت ہے اس کے پسوانے کے لئے بھی اس کی ضرورت ہے اگر ایک خاص نسبت سے گندم میں پانی نہ ہو تو وہ پیسی نہیں جا سکتی۔اس صورت میں یہ دیکھنا کہ کتنی فیصد پانی ہے یہ تو ہمارے اختیار کی بات نہیں لیکن یہ ہمارے اختیار کی بات ہے کہ ہم اس کو گوندھتے وقت اس میں پانی ملا ئیں۔آٹے میں پانی ملائے بغیر کوئی شخص روٹی بنانا چاہے تو نہیں بنے گی۔یہ قانونِ قدرت ہے یہ خدا تعالیٰ کی صفات کے آثار ہیں جو دنیا میں جلوہ گر ہیں مثلاً آٹے کی گندھوائی پانی کی محتاج ہے۔خدا تعالیٰ نے آٹے کی گندھوائی کو پانی کے ساتھ باندھ دیا ہے۔پھر آٹے کی پسوائی میں بھی یہی قانونِ قدرت نظر آتا ہے اگر پیتے وقت آٹا زیادہ گرم ہو جائے تو اس کے بہت سارے صحت مند اجزاء بیچ میں سے جل جائیں گے اور فائدہ نہیں دیں گے۔یہ ایک قانونِ قدرت ہے لیکن اس کا استعمال ہم نے کرنا ہے کیونکہ ہمارے لئے اس میں فائدہ ہے۔اگر