خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 329
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۹ خطبہ جمعہ ۶ فروری ۱۹۷۶ ء اسلامی تعلیم نے انسان کو ایک بڑا ہی عجیب اصول بتایا ہے کہ یہ جو ہماری کائنات ہے اس کائنات کی حقیقت قضا و قدر میں مضمر ہے مسئلہ تقدیر اس کی بنیاد ہے اور چونکہ یہ ساری کائنات انسان کی خدمت کے لئے بنائی گئی ہے۔انسان اس سے خدمت لے ہی نہیں سکتا جب تک اسے تقدیر کا مسئلہ سمجھ میں نہ آئے میں اس مسئلہ پر انشاء اللہ اگلے خطبات میں تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔درختوں کے باغات یا جنگلات سے جَنَّةٌ ( اس کی جمع جنات یعنی باغات ) کی طرف توجہ دلائی جو اس دنیا میں بھی روحانی طور پر ملتی ہے اور اخروی زندگی میں بھی اور وہ تو ہمیشہ کے لئے مل گئی۔گویا انسانی زندگی کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنے آپ کے پیار اور اس کی رحمت کو کچھ اس طرح حاصل کر لے کہ اس دنیا میں بھی اس کے لئے جنت کا سامان پیدا ہو جائے اور اخروی زندگی میں بھی انسان کے لئے جنت کا سامان پیدا ہو۔نہ اس جہان میں خدا کے قہر کی آگ انسان کو جلا دینے والی اور راکھ کر دینے والی ہو اور نہ اس جہان میں خدا تعالیٰ کے قہر کے جلوے اس طرح ظاہر ہوں کہ قرآن کریم کے بیان کے مطابق انسان نہ زندوں میں ہے نہ مردوں میں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اس دنیا میں بھی حقیقی زندگی دے اور حقیقی زندگی کے ساتھ جو فضل اور حقیقی زندگی کے ساتھ جو روحانی نعمتیں وابستہ ہیں وہ بھی عطا فرمائے اور پھر وہ نعمتیں ہمیں اخروی زندگی میں بھی نصیب ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ار مئی ۱۹۷۶ ء صفحه ۲ تا ۵)