خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 328
خطبات ناصر جلد ششم ۳۲۸ خطبہ جمعہ ۶ رفروری ۱۹۷۶ء اس کو بیان کیا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے میں اس وقت اس کی Out Lines( آؤٹ لائنز ) یا اس کی بعض بنیادی باتوں کی طرف مختصراً اشارہ کروں گا۔اصل مضمون بعد میں بیان کروں گا ایک تو جب مسلمان کا ہل بن گیا ، کام کرنے کو اس کا دل نہ کیا اور اس نے سمجھ لیا۔یہ تقدیر کا مسئلہ یہ سکھاتا ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہو جو کام ہونا ہے وہ آپ ہی ہو جائے گا لیکن یہ کوئی تقدیر نہیں ہے۔اسلام نے ہمیں یہ نہیں سکھایا۔دوسرے کچھ لوگوں نے جن میں زیادہ تر غیر مذا ہب والے ہیں انہوں نے اسلام پر یہ اعتراض بھی کیا کہ اسلام نے تقدیر یعنی قضا و قدر کا جو مسئلہ پیش کیا ہے اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے۔اگر تقدیر ہی نے سب کچھ کرنا ہے تو انسان تو گویا مجبور ہو گیا۔وہ تو صاحب اختیار نہ رہا اگر وہ صاحب اختیار نہیں ہے تو جنت کیسی اور دوزخ کیسی۔یعنی اللہ تعالیٰ جبراً کام کرواتا ہے اور پھر سزا دیتا ہے یہ تو کوئی معقول بات نہ ہوئی۔یہ تو یقیناً معقول بات نہیں ہے لیکن دراصل ایسے معترض کے دماغ میں عقل کی کمی ہے اسلام نے تقدیر یعنی قضا و قدر کا مسئلہ اس رنگ میں نہیں بتایا کہ انسان صاحب اختیار نہ رہے اس ضمن میں اس وقت میرے ذہن میں تین ایسی بنیادی غلطیاں ہیں جو مسلمانوں میں نا سمجھی کے نتیجہ میں پیدا ہو گئیں۔چنانچہ ایک وقت میں بڑے بڑے عالم ایسے گذرے جنہوں نے کہا کہ چونکہ ملنا وہی ہے جو مقدر ہے اور جو مقدر نہیں وہ ملنا نہیں تو پھر دعا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں مثلاً سرسید احمد خان صاحب نے یہ مسئلہ پیش کر دیا کہ کیا کرے گی دعا جو چیز مقدر ہی میں نہیں دعا وہ دلوا نہیں سکتی اور جو مقدر ہے اس کے لئے دعا کی ضرورت نہیں۔وہ چیز بغیر دعا کے مل جائے گی۔انہوں نے ساتھ کوئی اور تو جیہ بھی کی جو ہمارے نزدیک نہ ہمیں قائل کرنے والی ہے اور نہ اسلام کے حسن کو دوبالا کرنے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے اس نظریہ کا بڑا زبردست جواب دیا ہے۔اس کے علاوہ بھی کئی اور خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن میرے ذہن میں تین آئی ہیں ان کے متعلق اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو تفصیل سے اگلے خطبات میں بیان کروں گا۔تقدیر کے اصل مسئلہ پر اسلام نے جس رنگ میں روشنی ڈالی ہے اس رنگ میں آپ اس کو سمجھیں گے تو ترقی کرسکیں گے۔