خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 305
خطبات ناصر جلد ششم ۳۰۵ خطبہ جمعہ ۲۳ /جنوری ۱۹۷۶ء بھی اس سے خوش تو نہیں ہو سکتے تھے۔جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والوں کا تعلق تھا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ مہدی علیہ السلام کے وقت اسلام میں اس قدر بدعات شامل ہو چکی ہوں گی کہ جب مہدی آکر اسلام کو ان بدعات سے پاک کر کے صحیح شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرے گا تو اس زمانے کے مسلمان کہیں گے یہ اسلام نہیں ہے یہ تو کوئی نیادین لے آیا ہے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہیں کہ لوگ کہیں گے مہدی ایک جدید دین لے کر ہماری طرف آ گیا ہے ہم اس کو کس طرح ما نیں۔اس کا مطلب ہوا ہمیں اسلام چھوڑنا پڑے گا۔حالانکہ حقیقت یہ ہوگی کہ وہ اسلام کو چھوڑ چکے ہوں گے اور مہدی علیہ السلام اُن کے سامنے صحیح اور صاف اور پاک اور مصفی اسلام کو اس کی پوری رعنائی اور پورے حسن کے ساتھ پیش کر رہے ہوں گے اور لوگ کہیں گے کہ یہ نیا دین لے کر آ گیا ہے۔گویا اس طرح یہ لوگ مہدی علیہ السلام سے غصے ہو گئے اور مہدی علیہ السلام کے طفیل ہم سے بھی غصے ہو گئے اور جیسا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اُن کو حکم دیا گیا تھا مہدی کو سلام بھیجنے کی بجائے اُن پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔اس کی تفصیل کا یہ وقت نہیں ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعض کتابوں میں تفصیل کے ساتھ ان فتاوی کے الفاظ لکھ دیئے ہیں یہ بتانے کے لئے کہ کس قسم کی بے دھڑک فتوی بازی کی گئی گویا کہ مسلمانوں پر کوئی اخلاقی پابندی ہی نہیں ہے۔لوگوں نے مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دیں، کفر کے فتوے لگائے ، مفسد و مفتری کہا لیکن چونکہ آپ سچے تھے اس لئے آپ کو کوئی خوف نہیں تھا کہ میں اپنی کتابوں میں ان چیزوں کو محفوظ کر کے چلا جاؤں۔ہم اس مہدی علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں یا کم از کم ہر احمدی یہ دعوی کرتا ہے بڑا بھی اور چھوٹا بھی مرد بھی اور عورت بھی کہ اس مدعی مہدویت پر ہم ایمان لائے ہیں۔اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ اس مہدی کے مقام کو پہچانیں۔ہمیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مہدی علیہ السلام کا کیا مقام ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مسیح موعود علیہ السلام کا کیا مقام ہے (مہدی اور مسیح ایک ہی وجود کے دو نام ہیں ) پھر ہمارے سامنے بدعات سے پاک اسلام پیش کیا گیا ہے ہم اُس