خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 289 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 289

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۹ خطبہ جمعہ ۲ /جنوری ۱۹۷۶ء کریں گے۔چنانچہ اس کے بعد آواز نہیں آئی البتہ ایک دفعہ باہر سے آواز آئی تو میں نے با ہر آدمی بھیجا کیونکہ یہاں جلسے کے دنوں میں جو دکاندار ہوتے ہیں ان کی اکثریت اِدھر اُدھر کے علاقوں کے غیر احمدیوں کی ہوتی ہے جو یہاں آکر دکانیں کھولتے ہیں۔وہ اپنی عادتیں لے کر آجاتے ہیں وہ بیچارے تو قابل رحم ہیں ان کو تو بتانے والا بھی کوئی نہیں ہے۔شاید اُن کی نقل کسی نے یہاں اُتاری تھی یا وہ باہر سے ہی ایسی عادت لے کر آیا تھا۔مسجد میں شور مچانے کی اجازت نہیں ہے جب خطبہ ہو رہا ہو تو اس میں بولنے کی اجازت ہے۔اسلام نے اُٹھنے اور بیٹھنے اور مجالس میں آنے کے آداب سکھائے ہیں۔یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں مگر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں نے ہی اسلامی معاشرہ کو ایک فرقان بنادیا ہے اور اسلامی معاشرہ اور غیر اسلامی معاشرہ میں ایک ایسی تمیز پیدا کر دی ہے کہ یہ بظاہر چھوٹی چیزیں نتائج کے لحاظ سے چھوٹی نہیں رہتیں بلکہ زبر دست چیزیں بن جاتی ہیں جس پر ایک مسلمان کو ایک احمدی کو فخر کرنا چاہیے کہ کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعاؤں سے اور اپنی قوت قدسیہ سے اور اللہ تعالیٰ سے اس عظیم تعلیم کو حاصل کر کے ہمیں وحشی سے انسان بنا دیا۔پھر انسانوں میں سے بہتوں کو با اخلاق بنا یا اور بنارہے ہیں اور پھر با اخلاق انسانوں میں سے بہتوں کو خدا رسیدہ انسان بنایا اور اس تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انسان ایک دن میں تو خدا تعالیٰ کا محبوب نہیں بن جاتا۔اس کے لئے بڑی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں، بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں، بڑے مجاہدے کرنے پڑتے ہیں، بڑا محاسبہ نفس کرنا پڑتا ہے اور اپنی ہر حرکت و سکون کو بیدار ضمیر اور عزم صمیم کے ساتھ ایک خاص نہج پر ڈھالنا پڑتا ہے تب انسان وہ انسان بنتا ہے جس کے متعلق محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس رنگ میں میری پیروی کر کے خدا تعالیٰ بھی تم سے پیار کرنے لگ جاتا ہے۔یہ کتنی بڑی نعمت ہے جو ہمیں ملتی ہے۔باقی تو میں نے بتایا ہے کہ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں لیکن ان کا مجموعہ معاشروں میں ایک فرقان کی اور امتیاز کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھ دے اور توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی ضرورتوں کے مطابق آگے بڑھیں اور اپنے آپ کو پیش کر کے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کریں تا کہ ہم ساری دنیا کے لئے نمونہ بنیں اور وہ