خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 288

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۸ خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۶ء آپ کے متبعین ہی ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ دنیا کی حسنات کا استعمال اس طرح پر ہونا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والا نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہو۔وقف جدید کے اس نئے دفتر کے لئے جماعت میں تحریک بھی ہونی چاہیے۔صرف میرا یہ خطبہ کافی نہیں ہے۔ہمارے مبلغ اور مبشر اور معلم جماعتوں میں اس کی تحریک کریں کہ اس کے لئے دوست آگے آئیں۔اس دفتر کی تفصیل میں اس وقت معین نہیں کر سکتا بعد میں حالات کو دیکھ کر معین کی جائے گی۔بعض ایسے دوست بھی ہو سکتے ہیں جو یہ کہیں کہ ہم پہلے صرف ایک مہینے کے لئے آسکتے ہیں تو ان کے لئے ایسے دینی نصاب ہونے چاہئیں کہ ہم ان کو کم از کم اتنا نصاب سکھا دیں کہ جب وہ دوسری دفعہ ایک مہینے کے لئے آئیں تو اس عرصہ تک وہ گزارہ کر لیں کیونکہ آداب اسلامی اور اخلاق اسلامی سکھانے کی جس مہم کا اور جس عظیم علمی جہاد کا میں نے جلسہ سالانہ پر اعلان کیا ہے اس کو ہم ایک دو دن میں تو پورا نہیں کر سکتے۔اس کی تو تیاری کے لئے بھی وقت لگے گا اور پھر چوکس رہ کر اس کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔بعض اچھی باتیں شروع کی جاتی ہیں پھر ان کی طرف توجہ نہیں رہتی۔جب ہم بچے تھے تو قادیان احمد یہ چوک میں جو سیمنٹ کا ایک بورڈ تھا حضرت میر محمد احق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے اوپر آداب اور اخلاق کی باتیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث لکھتے رہتے تھے اور ہر مردوزن کے علم میں آجاتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا ہے اور آپ اپنی اُمت سے یہ چاہتے ہیں کہ اسی طرح کھانا کھایا جائے ، اسی طرح لباس پہنا جائے ، اسی طرح بات کی جائے۔کئی دوست یا بچے بعض دفعہ ایسی بات کہتے ہیں کہ بڑی تکلیف ہوتی ہے چنانچہ مجھے جلسے پر کہنا پڑا کہ دوبارہ ”اوئے“ کی آواز نہ آئے۔جب میں نے یہ لفظ سنا تو مجھے سخت تکلیف ہوئی۔مجھے اس طرح بیچ میں بولنے کی عادت نہیں ہے لیکن میں رہ نہیں سکا۔ہمارا جلسہ ہو رہا ہو اور جلسے میں کوئی احمدی کسی اور کو ”اوئے“ کر کے آواز دے اور اونچی آواز سے پکارے یہ تو بڑی بد تہذ یہی ہے لیکن یہ اس کا قصور نہیں ہے۔میں نے تو استغفار کی میں سمجھا کہ یہ میرا قصور ہے کہ کیوں میں ساری جماعت کی صحیح تربیت نہیں کر سکا۔پھر یہ ساری جماعت کا قصور ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دی۔اگر ان کو بتایا جائے تو وہ ایسا نہیں