خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 284 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 284

خطبات ناصر جلد ششم ۲۸۴ خطبہ جمعہ ۲ جنوری ۱۹۷۶ء رکھ لیں۔بڑی بڑی عمارتیں اور لنشل کی چھتیں نہ ہوں۔شروع میں یہاں ساری قیام گاہیں ہی گھاس پھونس کی چھتوں ہی کی بنائی جاتی تھیں اور بعض دفعہ بارش بھی ہو جاتی تھی لیکن اگر بامر مجبوری ان کو کوئی تکلیف اُٹھانی پڑتی تھی (یعنی ہماری منتظمین کی مجبوری کی وجہ سے ) تو وہ جو خدا تعالیٰ کی آواز پر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدا کی اور محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سننے کے لئے مرکز میں آتے تھے وہ تکلیف کو تکلیف نہیں سمجھتے تھے کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ جماعت جتنا کر سکتی ہے اتنا کر دیا ہے اور باقی جو ہے وہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا امتحان لیا ہے اور ہمیں نا کام نہیں ہونا چاہیے بلکہ خوشی اور بشاشت کے ساتھ اس امتحان کو قبول کر لینا چاہیے۔بہر حال جماعت کو مکانیت کی طرف توجہ دینی چاہیے ( صدر انجمن احمد یہ اس طرف فوری توجہ دے) اسی طرح روٹی پکانے کی مشینوں کا بھی از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور اگر ضرورت محسوس ہو کہ آئندہ جلسہ کے لئے نئی مشینیں بھی چاہیے ہوں گی تو ابھی سے اس کا انتظام شروع کر دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں برکت ڈالے اور اہل ربوہ پر بھی رحمتیں برستی رہیں اور اللہ تعالیٰ کی باتیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سننے کے لئے یہاں آنے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں سے نوازتار ہے۔دوسری بات جو اس وقت میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وقف جدید کا نیا سال یکم جنوری سے شروع ہوتا ہے میں نئے سال کا اعلان کرتا ہوں۔گذشتہ سال اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور وقف جدید کے لئے جماعت کو جتنی رقم کی ضرورت تھی اور جو اس کا بجٹ تھا جماعت نے اپنے وعدے پورے کر کے اس کے لگ بھگ رقمیں ادا کر دی ہیں۔چندہ بالغاں کا ۲,۶۲,۰۰۰ روپے کا وعدہ تھا اور ۵۳،۰۰۰، ۲ روپے اس رپورٹ تک وصول ہو چکے ہیں اور اس کے سامنے یہ نوٹ ہے کہ گذشته سال ۱۵ جنوری تک رقوم آتی رہی تھیں اس لئے اس سال بھی رقمیں آئیں گی کیونکہ بعض رقمیں چلی ہوتی ہیں لیکن وقت پر نہیں پہنچ سکتیں اور بعض دوست جلسے کے بعد یہاں سے جا کر بھجواتے ہیں اس لئے امید ہے کہ یہ بجٹ پورا ہو جائے گا۔وقف جدید کا ایک دفتر اطفال ہے اس