خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 208

خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۸ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء انہیں دیا جاتا ہے وہ اسے بجالاتے ہیں۔اس واسطے خدا تعالیٰ کی راہ میں جو اجتماعی کوشش ہوتی ہے اس میں بڑا حصہ فرشتوں کا ہوتا ہے مگر اس اجتماعی کوشش کا جو ثواب ہوتا ہے وہ چونکہ فرشتوں کو نہیں ملتا اس لئے اللہ تعالیٰ وہ ثواب بندوں کو دے دیتا ہے اور اس طرح وہ دس گنا ، سو گنا بلکہ ہزار گنا ثواب میں شامل ہو جاتے ہیں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔فرشتے نہ بھی ہوتے تب بھی اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے بندوں کو ثواب دے سکتا تھا لیکن اس نے ہمیں ثواب پہنچانے کا ایک ذریعہ بھی بنادیا۔پس نفلی ثواب کے اس قسم کے عظیم مواقع میسر آئیں جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے بعد امت محمدیہ میں ایک گروہ کو اب پہلی دفعہ مل رہے ہیں اور وہ ان۔فائدہ نہ اٹھا ئیں تو ایسے لوگوں کو پتہ نہیں لوگ پاگل کہیں گے یا کیا کہیں گے مگر جو فر شتے آ کر کام کرتے ہیں وہ تو ضرور حیران ہونگے کہ آسمان سے ہماری ڈیوٹی لگ جاتی ہے مگر جن کے سپرد یہ کام ہے وہ اس سے غافل رہتے ہیں۔ا دوسرے جلسہ سالانہ کے متعلق ہمیشہ ہی یہ تحریک کرنی پڑتی ہے کہ دوست نظام جلسہ کے ماتحت ٹھہر نے والے مہمانوں کے لئے اپنے مکانوں کا کوئی نہ کوئی حصہ فارغ کریں۔وشعُ مكانك کا ہمیں مستقل حکم ہے۔پچھلے سال تو میں نے بتایا تھا اللہ تعالیٰ نے مجھے وَشِعُ مَكَانَكَ کی یاد دہانی بھی کروائی تھی جب سے جلسہ سالانہ شروع ہوا ہے یا جب سے حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے ماننے والوں کو مرکز میں آنے کی توفیق ملی آپ کے زمانہ میں آپ سے ملنے کی یا مرکز میں آکر اس قسم کے مرکزی اجتماعات سے استفادہ کرنے کی تو ہمیشہ ہی یہ دیکھنے میں آیا کہ باوجود اس کے کہ دوران سال مکانوں میں بڑی وسعتیں پیدا ہوتی ہیں پھر بھی مکان کم ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہ بڑا فضل ہے۔جلسہ پر آنے والے اس جذبہ کے ساتھ آتے ہیں اور خدا کی رحمت اور اس کی برکتوں کے بغیر وہ جذ بہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ایک دفعہ کا واقعہ مجھے اب بھی یاد ہے۔شروع شروع میں جب جامعہ نصرت کے میدان میں جلسہ ہوا کرتا تھا غالباً حضرت صاحب کی افتتاحی تقریر کے بعد میں باہر نکلا کیونکہ میں افسر جلسہ سالا نہ تھا اور مجھے دوسری ڈیوٹیوں پر جانا تھا۔ایک صاحب جن کو میں