خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 207
خطبات ناصر جلد ششم ۲۰۷ خطبه جمعه ۱۴ / نومبر ۱۹۷۵ء کام رضا کارانہ طور پر کرتے ہیں ان کی ذہنیت کیا ہوتی ہے۔پچھلے سال چونکہ جلسہ سالانہ کے موقع پر پولیس کا بھی بڑا انتظام تھا۔ایک چھوٹا بچہ جو رات کا کھانا لے کر جا رہا تھا اس سے ایک پولیس افسر نے علم حاصل کرنے کے لئے پوچھا بچے ! تمہیں اس کام کے کتنے پیسے ملتے ہیں؟ تو وہ ہنس پڑا۔کہنے لگا تم پیسوں کی بات کرتے ہو میں ربوہ کا رہنے والا نہیں؟ میں باہر سے آیا ہوں اور بڑی سفارشیں کروا کر میں نے جلسہ کے کام کرنے کے لئے اپنی ڈیوٹی لگوائی ہے ورنہ باہر والوں کو عام طور پر نہیں لگاتے اور تم مجھ سے یہ پوچھتے ہو کہ مجھے پیسے کتنے ملتے ہیں۔ان دو باتوں کے بیان کرنے کا میرا مقصد یہ ہے کہ میں اس ضمن میں جلسہ سالانہ کے بارہ میں اپنے احمدی نوجوانوں، بچوں اور بڑی عمر والوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر سال جلسہ اپنی وسعتوں کے ساتھ آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں بھی وسعت ہوتی ہے اور ذمہ داریوں میں بھی وسعت ہوتی ہے۔اس لئے نظام جلسہ کو ہر سال زیادہ اخلاص سے اور زیادہ تعداد میں کام کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر جلسہ سالانہ کے نظام کو یہ شکوہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض ماں باپ اپنے بچوں کو اس عظیم ثواب سے محروم ہوتا دیکھتے ہیں اور اسے برداشت کر لیتے ہیں وہ اس کو کیسے برداشت کر لیتے ہیں مجھے تو سمجھ نہیں آتی۔یا تو وہ مجھے سمجھا دیں کہ یہ بھی برداشت کر لینے کی چیز ہے تو میں ان کو کچھ نہیں کہوں گا یا پھر اس ثواب سے فائدہ اٹھا ئیں کیونکہ خدا تعالیٰ ایک قوم کو گھر بیٹھے نظلی ثواب کے ایسے مواقع میٹر کرے اور آپ ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھا ئیں تو اس میں کوئی معقولیت مجھے تو نظر نہیں آتی اور مجھے یقین ہے کہ کسی صاحب فراست کو بھی اس میں معقولیت نظر نہیں آئے گی اس لئے اے میرے عزیز بچو! اور جوانو! اور بڑی عمر والو! جلسہ سالانہ کے نظام میں تند ہی سے کام کرو۔یہ تمہارے لئے مفت کا ثواب ہے۔میں نے بتایا ہے اور میرا یقین ہے کہ ہمارے کام تو خدا کے فضل سے ہوتے ہیں اور اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں جو دنیا عام طور پر کر لیتی ہے۔ہماری زندگی کے تجربے کا نچوڑ یہ ہے کہ مہدی معہود علیہ السلام کے کام تو آسمان سے فرشتے آ کر کرتے ہیں اور ثواب ہمیں مل جاتا ہے۔چونکہ فرشتے کام کرتے ہیں اُن کے لئے جزا و سزا نہیں۔ان کی فطرت ہی ایسی ہے۔قران کریم نے فرشتوں کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ جو حکم