خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 185
خطبات ناصر جلد ششم ۱۸۵ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء گوٹن برگ کی مسجد کے افتتاح کے موقع پر وہاں جو آرکیٹیکٹ آئے ہوئے تھے اُن کو بڑا شدید انفلوائنز تھا لیکن مسجد کا جذب اُن کو وہاں لے آیا تھا پہ نہیں کس طرح اُٹھ کر آگئے تھے اور مجھے بھی لگا گئے۔چنانچہ ۲۷ ستمبر کو جو انفلوائنزا ہوا تھا اُس کا تھوڑ اسا اثر ابھی تک باقی ہے انسان ہے بڑا عاجز لیکن اس کو عادت پڑ گئی ہے کچھ گپیں لگانے لگ گیا ہے چاہے وہ انگلستان ہی کا کیوں نہ ہو ہمیں وہاں لوگ کہنے لگے کہ انفلوائنزا کا ایک نیا ٹیکا نکلا ہے جو آدمی وہ ٹیکہ لگوالے اُس کو فلو نہیں ہوتا پر ایک شرط ہے کہ ٹیکہ لگنے سے پندرہ دن تک فلو نہ ہو تو اس کے بعد نہیں ہوگا۔میں نے کہا کیا خدا سے تم نے کوئی ٹھیکہ کیا ہوا ہے کہ پندرہ دن تک فلو نہ ہوگا۔یہ تو ویسے ہی مضحکہ خیز بات ہے۔میں نے کہا اچھا لگوا لیتے ہیں۔جب وہ ٹیکہ لگوا لیا تو اس کے بعد انفلوائنزا کا بڑا سخت حملہ ہو گیا اصل تو خدا تعالیٰ شافی ہے وہی شفا دینے والا ہے۔گوٹن برگ کے گرد چالیس سے زیادہ یوگوسلاوین گھرانے احمدی ہو چکے ہیں۔میں نے اپنے دوستوں سے کہا مجھے ان سے ملاؤ گو وہ نئے احمدی مسجد کے افتتاح کے موقع پر بھی آئے ہوئے تھے لیکن کیونکہ افتتاح کے بعد مشن ہاؤس میں کھانے کا انتظام تھا اور مشن ہاؤس ایک چھوٹی سی عمارت میں ہے جس میں اگر پچاس یا سو آدمی اکٹھے ہو جا ئیں تو جگہ نہیں رہتی اس لئے اگلے دن شام کو صرف یوگوسلاوین احمدیوں کی دعوت کی گئی جس میں بہت سے غیر احمدی دوست بھی شامل ہوئے جو زیر تبلیغ تھے اُس شام کو ۱۴ یوگوسلاوین نے بیعت کی جن میں چھ مرد تھے اور ۸ عورتیں الحمد للہ علی ذالک اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں ایک رو پیدا ہوگئی ہے چنانچہ میرے لندن واپس پہنچنے پر کمال یوسف جو کوپن ہیگن کے انچارج مبلغ ہیں اُن کا مجھے فون آیا کہ جب اخباروں میں سویڈن کی مسجد کے افتتاح اور یوگوسلاوین دوستوں کی بیعت کی خبریں اخباروں میں چھپیں تو اُن کے بعض رشتے دار دوست اور واقف کار یوگوسلاو جو سویڈن کے ایک ایسے شہر میں بستے ہیں جو کوپن ہیگن سے ۳۲/۳۰ میل اور گوٹن برگ سے ڈیڑھ پونے دوسو میل کے فاصلے پر واقع ہے اُنہوں نے فون پر ہمارے مبلغ سے کہا کہ بتائیں ہمارے پاس تبلیغ کرنے کے لئے کیوں نہیں آتے؟ میں نے اُن کا فون سن کر اُن سے کہا کہ آپ اُن کو تبلیغ کرنے کے لئے جائیں لیکن پہلی دفعہ میرے