خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 182
خطبات ناصر جلد ششم ۱۸۲ خطبه جمعه ۳۱/اکتوبر ۱۹۷۵ء کام شروع کرے گا اور اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اگلے سال جولائی تک اسے مکمل کر دے گا۔اب انشاء اللہ جولائی میں سویڈن میں پہلی مسجد ہوگی ( جہاں تک ہمیں علم ہے ہو سکتا ہے ہمیں پورا علم نہ ہو لیکن جہاں تک ہمیں علم ہے) یہ پہلی احمد یہ مسجد ہے جو وہاں بن رہی ہے اور جو بنیں گی مساجد اور خدا کرے بنیں۔ہمیں تو جتنی مساجد بنیں خوشی ہوتی ہے کہ خدا کے گھر بنے ہیں تو وہ ہمارے پیچھے آنے والی ہوں گی ہم سے پہلے نہیں ہوں گی۔اس عرصہ میں ہم پہلی مساجد اور کئی ممالک میں بھی انشاء اللہ بنا چکے ہوں گے۔میں نے وہاں یہ اعلان بھی کیا تھا کہ اس مسجد کی تعمیر کا سارا خرچ بیرون پاکستان کی جماعتیں ادا کریں گی چنانچہ اس غرض کے لئے روپیہ یا تو جمع ہو چکا ہے یا ایسے وعدے ہیں جو اگلے مارچ اپریل تک پورے ہونے والے ہیں۔پاکستان کا ایک پیسہ بھی اس مسجد میں نہیں لگے گا۔یہ ہمارے لئے شرم کی بات ہے ہمارے لئے دکھ کی بات ہے بلکہ مجھے یوں کہنا چاہیے کہ ہمارے لئے دُکھ کی بات ہے اور ہمارے ملک کے لئے شرم کی بات ہے۔سویڈن کے ساتھ دوسرا ملک ناروے ہے اس کے بعد پھر میں وہاں بھی گیا۔وہاں جانے کی دراصل دو اغراض تھیں ایک تو یہ کہ وہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے چالیس کمانے والے احمد یوں کی ایک جماعت بن گئی ہے جن میں سے زیادہ پاکستانی ہیں یعنی ان کے آباء و اجداد پاکستانی ہیں۔ممکن ہے ان کی اپنی شہریت بدل گئی ہو۔ان میں سے بعض بڑے مخلص احمدی ہیں اور اپنے بچوں کی بڑی اعلی تربیت کر رہے ہیں۔ان سے میں نے کہا کہ اب تمہاری باری ہے۔صرف انگلستان کی جماعت دو سال کے بعد ۷۸ء میں صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ میں اتنے پیسے جمع کر چکی ہوگی کہ وہ تمہاری مسجد بنادے اس لئے تم اپنے لئے کسی اچھی جگہ پر مسجد کے لئے زمین تلاش کرو۔اس کے علاوہ دوا اور ممالک بھی ہیں جن کے متعلق میں کہ کر آیا ہوں کہ وہاں بھی مسجد میں تعمیر کی جائیں۔دوست یا درکھیں ہم مسجدیں کسی Show کے لئے نہیں بناتے۔یہ ایک بنیادی بات ہے کہ ہم مسجد میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بناتے ہیں۔اگر کوئی شخص اپنی جہالت سے یہ سمجھتا ہے کہ مثلاً مغل بادشاہوں نے لاہور میں جو بہت بڑی مسجد بنائی ہے اور اس کے چار مینار بنائے