خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 165
خطبات ناصر جلد ششم ۱۶۵ خطبه جمعه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۷۵ء کو بھول جاتی ہیں یعنی اپنی اور اپنی نسلوں کی فلاح پر ان کی نظر نہیں رہتی۔جہاں تک خدا تعالیٰ کو بھولنے کا تعلق ہے یہ دو طرح پر ہوتا ہے۔ایک بھولنا یہ ہے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کی عبادت نہ کر کے، اس سے اس کی پناہ نہ مانگ کر ، اس کے قہر اور غضب سے نہ ڈر کر ، اس کی محبت اور اس کے پیار کی قدر نہ جان کر، اس کی صفات کا رنگ اپنے پر نہ چڑھا کر اس سے یکسر غافل ہو جاتا ہے۔ایک بھولنا خدا کو یہ ہے کہ اس نے جو احکام انسان کو اس کے اپنے نفس کے متعلق، دوسرے بنی نوع کے متعلق ، معاشرہ کے متعلق اقتصادیات کے متعلق ، سیاست کے متعلق دیئے ہیں انہیں تو وہ نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنی چلانے اور من مانی کرنے لگتا ہے۔خدا تعالیٰ کو بھولنے کا نتیجہ کیا ہوتا ؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے تیسری آیت میں کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایسے لوگوں پر خدا کے غضب کی آگ بھڑکتی ہے۔وہ اس دنیا میں بھی خسارہ میں رہتے ہیں اور اگلے جہان میں بھی خسارہ ان کے لئے مقدر ہوتا ہے کیونکہ وہاں جہنم ان کا ٹھکانہ ہوگی۔برخلاف اس کے جو لوگ تقویٰ اللہ پر قائم ہو کر خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یادر کھتے ہیں، اُس کی عبادت بجالاتے ہیں ، اس سے اس کی پناہ طلب کرنے میں شست نہیں ہوتے ، اپنے آپ کو اُس کی صفات کے رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور اس کے جملہ احکام بجالا کر دنیوی اور اُخروی فلاح کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں ان کے لئے اس دنیا کو بھی جنت بنا دیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لئے جنت مقدر ہوتی ہے۔آپ لوگوں پر جو اس ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ آپ یہ سوچتے رہیں کہ کہیں ہم نے اپنی اور اپنی نسلوں کی فلاح کو بھلا تو نہیں دیا۔آپ یہاں کے لوگوں اور ان کے معاشرہ کی نقل کر کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کو ہمیشہ یا درکھ کر ، اس کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر اٹھا کر اور اس کے جملہ احکام بجالا کر ہی اس کا فضل حاصل کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں عقل اور سمجھ اور فراست عطا کرے تا کہ ہم اُس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق مستقبل کو سنوارنے میں کوشاں رہ کر اُس کا فضل حاصل کر سکیں اور ہمیشہ ہی حاصل کرتے چلے جائیں۔