خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۹ خطبه جمعه ۱٫۳ کتوبر ۱۹۷۵ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مہدی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سلام پہنچانے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا جب بھی تم اس کا زمانہ پاؤ اس کے ساتھ شامل ہو جانا کیونکہ اسلام اس کے ذریعہ سے دنیا میں فتح یاب ہوگا اور غالب آئے گا۔چونکہ اُمت محمدیہ میں مہدی علیہ السلام سے بڑھ کر اور کوئی پیدا نہیں ہوا اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جس قدر پیار اور آپ کے لئے خدمت وفدائیت کا جو جذ بہ مہدی علیہ السلام میں نظر آتا ہے وہ کسی اور میں نظر نہیں آتا۔اور اسی لئے یہ ضروری تھا کہ اُمت محمدیہ میں ظاہر ہونے والے بزرگوں کی جس قدر مخالفت کی گئی تھی اس سے بڑھ کر مخالفت مہدی علیہ السلام کی جاتی۔پس مخالفت تو ہوگی اور ضرور ہوگی لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں محبت کے ساتھ ، پیار کے ساتھ اور غایت درجہ ہمدردی اور غمخواری کے ساتھ احمدیت نے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ترین رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نوع انسان کے دل جیتنے ہیں۔اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ پندرہ سال جن کے اوائل میں سے ہم گزر رہے ہیں میرے اندازے کے مطابق غلبہ اسلام کی صدی کے لئے تیاری کے سال ہیں۔جماعت احمدیہ کی پہلی صدی (جس کے پورا ہونے میں پندرہ سال رہ گئے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی سے مشابہت رکھتی ہے۔مکی زندگی میں مسلمانوں اور اسلام کی مخالفت آہستہ آہستہ بڑھتی ہی چلی گئی تھی۔جولوگ اس دور میں خدائے واحد پر ایمان لائے تھے اور جنہوں نے اسلام قبول کیا تھا انہیں پے در پے تکالیف پہنچائی گئی تھیں اور ان کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔اسی طرح میرے خیال میں اگلے پندرہ سال میں جو جماعتِ احمدیہ کی پہلی صدی کے اختتام کا زمانہ ہے دنیا ہمیں تکالیف پہنچانے اور مثانے کی کوشش کرے گی لیکن جس طرح مکہ کے ابتدائی مسلمانوں نے بشاشت کے ساتھ تکالیف برداشت کی تھیں حتی کہ ان کے ننگے جسموں کو پتھروں پر گھسیٹا گیا تھا۔شعب ابی طالب میں محصور کر کے بھوکا اور پیاسا رہنے پر مجبور کیا گیا تھا پھر بھی صحابہ نے بشاشت کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کیا تھا اسی طرح ہنتے اور مسکراتے ہوئے چہروں کے ساتھ ہمیں بھی تکالیف برداشت کرنا پڑیں گی۔جب مکہ میں