خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 158 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 158

خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۸ خطبه جمعه ۳ اکتوبر ۱۹۷۵ء درمیان اصولی طور پر پایا جاتا ہے لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ہیں سب ایک جیسے۔مثال کے طور پر اصولی اختلاف کے باوجود دونوں میں پائی جانے والی یکسانیت اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے انبیاء کی مخالفت ہوئی اور اس قدر شدید مخالفت ہوئی کہ اپنے مشن میں ان کی کامیابی ناممکن نظر آنے لگی۔انبیاء بنی اسرائیل میں سے آخری بنی شریعت موسوی پر عمل کرانے والے حضرت عیسی علیہ السلام تھے۔ان کی انتہائی شدید مخالفت ہوئی اور انہیں شدید قسم کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں حتی کہ ان کے بعض ماننے والوں کو عرصہ دراز تک غاروں میں زندگی بسر کرنا پڑی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں ناکام ہو جائیں گے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں کامیاب کیا۔سب سے آخر میں صاحب شریعت نبی خاتم النبین حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔آپ کے ہاتھ میں قرآن کریم کی کامل شریعت تھی جو تا قیامت بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے آپ کو عطا کی گئی۔آپ کی بھی انتہائی شدید مخالفت ہوئی اور آپ کو بھی اور آپ کے ماننے والوں کو بھی شدید تکالیف اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔پھر خود امت محمدیہ میں وہ لوگ جو علماء امتى كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَاوِيْلَ کے مصداق تھے۔ان میں سے ہر ایک کی خود اُمت محمدیہ نے مخالفت کی۔وہ بزرگ ہستیاں جنہوں نے فقہ میں اُمت کی رہبری کی اور جن کے لئے ہم آج بھی دعائیں کرتے ہیں جیسے حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی ، حضرت امام بن جنبل وغیر ہم اپنے اپنے وقت میں انہیں ہر قسم کی تکالیف پہنچائی گئیں اور بعض کو قتل بھی کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے معاً قبل کی صدی میں نائیجیریا میں حضرت عثمان بن فودی آئے۔انہوں نے مجد دہونے کا دعویٰ کیا، بدعات سے دین کو صاف کر کے صحیح اسلام لوگوں تک پہنچایا لیکن ہوا یہ کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگا یا گیا اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی گئی۔انہیں اور ان کے مشن کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔اس کے با وجود وہ کامیاب ہوئے اور اسلام ان لوگوں میں اپنی اصل شکل میں قائم ہوا۔اسی ضمن میں حضور نے مزید فرمایا کہ آخر میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلا کے وجود میں امام مہدی آئے۔مہدی کے متعلق قرآن میں پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں۔