خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 154
خطبات ناصر جلد ششم ۱۵۴ خطبہ جمعہ ۱۹؍ ستمبر ۱۹۷۵ء یہ سمجھتے ہیں کہ جنت کے دروازوں کی چابی ان کے پاس ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ جولوگ ان سے تعلق رکھنے والے ہیں صرف وہی اس تعلق کی بنا پر جنت کے مستحق ہیں اور تمام وہ لوگ جوان سے تعلق نہیں رکھتے محض ان سے تعلق نہ رکھنے کی بنا پر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کے پاس اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔یہ لوگ محض خوش فہمی میں مبتلا ہیں حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ جو خلوص نیت کے ساتھ اپنا سارا وجود خدا کے سپر د کر دے یعنی اسی کا ہور ہے اور جو احکام خدا نے دیئے ہیں انہیں پورے اخلاص اور تعہد کے ساتھ بجالائے اور اس طرح نیک اعمال بجالانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے وہ جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ان آیات سے صاف عیاں ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق قرار دے۔یہ فیصلہ تو خدا نے کرنا ہے کہ كون بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنُ کا مصداق ہونے کے باعث جنت کا مستحق ہے اور کون خدا تعالیٰ کا نافرمان ہونے کے باعث جہنم کا حقدار ہے۔محض نام کی بنا پر کوئی شخص بھی جنت کا مستحق نہیں ٹھہر سکتا۔خدا تعالیٰ تو صرف اُس کو ہی جنت کا مستحق قرار دے گا جو اس کے احکام پر چلنے والا ہوگا۔اس وضاحت کے بعد حضور نے سورۃ بقرۃ کی ان دو آیات کی اس نہایت ہی پر معارف تفسیر کے بعض اقتباسات پڑھ کر سنائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی معرکہ آراء تصنیف آئینہ کمالات اسلام میں رقم فرمائی ہے اور جس کا لب لباب یہ ہے کہ ان آیات کی رُو سے عند اللہ مسلمان وہ ہے جو اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقف کر دے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دے یعنی اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جائے۔لہذا حقیقی طور پر اسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا جب اس کی غافلانہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اس کے نفس امارہ کا نقش ہستی مع اس کے تمام جذبات کے یک دفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد بوجہ حسن للہ ہونے کے نئی زندگی اس میں پیدا ہو جائے اور وہ ایسی پاک زندگی ہو جو اس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔