خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 147
خطبات ناصر جلد ششم ۱۴۷ خطبه جمعه ۵/ستمبر ۱۹۷۵ء ایمان باللہ سے متصف ہوکر اپنے قول وفعل سے دعوت الی اللہ کرتے چلے جائیں خطبه جمعه فرموده ۵ ستمبر ۱۹۷۵ء بمقام مسجد فضل - لندن (خلاصه خطبه ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورۃ حم السجدة کی آیت وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ - ( حم السجدة : ۳۴) کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس شخص کے قول سے اور کون سا قول بہتر ہے کہ جس نے دعوت الی اللہ کی اور جو اپنے ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بجالا یا اور اعلان کیا کہ میں مسلمانوں میں سے ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اس کا کامل فرمانبردار ہوں۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص کا قول جو دعوت الی اللہ کرتا ہے کس کے نزدیک دوسرے لوگوں کے قول سے بہتر ہے؟ سو ایک تو اس سے مراد خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے قرآن نازل کیا اور دوسرے اس سے مراد اہل بصیرت ہیں کیونکہ اَحْسَنُ کا لفظ ایک تو اس حسن پر بولا جاتا ہے جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو اور دوسرے یہ لفظ اس حسن کے لئے بھی بولا جاتا ہے جس کا بصیرت سے تعلق ہو۔اسی لئے حضرت امام راغب نے مفردات میں لکھا ہے احْسَنُ قَولاً سے مراد یہ ہوگی کہ اللہ اور اس کے مقربین کے نزدیک اس سے زیادہ اچھا اور کوئی قول