خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 124
خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۴ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء دعائیں کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے جلسہ سالانہ خیریت سے گزر گیا۔جلسہ سالانہ پر آپ نے بھی اور میں نے بھی خدا تعالیٰ کی قدرت کی شان دیکھی اور جو لوگ ہم میں ابھی شامل نہیں ہوئے اُنہوں نے بھی وہ نظارے دیکھے جو اُن کو حیرانی میں ڈالنے والے تھے۔باہر سے آنے والے ہمارے جو احمدی دوست تھے وہ بھی حیران تھے کہ یہ موسم، یہ بارش، یہ حالات کھلے میدان میں جلسہ اور کوئی شخص اپنی جگہ سے ہل نہیں رہا سب لوگ جلسہ کی تقریر کو غور سے سن رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے خود ہی مضمون بھی ذہن میں ڈال دیا تھا اور اسے بیان کرنے کی توفیق بھی دی۔غرض جلسہ سالانہ پر کئی تقریریں کرنی پڑتی ہیں بہر حال الْحَمدُ للهِ تقریریں کرنے کی توفیق ملی آپ نے بھی الحمد للہ کہی اور ضرور کر رہے ہوں گے میں بھی الْحَمدُ للہ ہمیشہ ہی کہتا ہوں۔پھر انفلوائنزا کا دوبارہ حملہ ہوا خدا تعالیٰ کے فضل سے مشاورت تک آرام آ گیا اور مشاورت کی ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق مل گئی۔پھر مشاورت کے بعد جو بیماری شروع ہوئی تو اس کے لمبے چکر میں مبتلا رہا۔آج مجھے بتایا گیا ہے کہ میں نے غالباً اپریل کے پہلے ہفتہ میں خطبہ دیا تھا اس کے بعد آج پہلی دفعہ میں یہاں آیا ہوں چونکہ بیماری ضعف کرتی ہے اس لئے ضعف کی وجہ سے آج بھی طبیعت بہت کمزور ہے اور دل کی دھڑکن بھی بہت تیز تھی لیکن میں نے سوچا کہ بڑی دیر ہو گئی ہے مجھے جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے جانا چاہیے دوستوں سے ملنا چاہیے اُن کی شکلیں دیکھنی چاہئیں وہ میری شکل دیکھیں اس سے دعاؤں کی زیادہ تحریک ہوتی ہے اللہ تعالیٰ آپ پر بھی اور مجھ پر بھی اپنی بے شمار نعمتیں نازل کرے۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے شکر کا نظام خاصے لمبے عرصہ تک خراب رہا لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا۔ویسے پہلے ایک دوائی کھانی پڑی اس سے شکر کا نظام معمول کے مطابق آگیا لیکن انسان کی عقل اور تجربہ بہت محدود اور نا قابل اعتبار ہے مگر پھر بھی انسان اس کو سمجھتا نہیں کہ اُسے خدا کی ضرورت ہے ہم تو خدا کی ضرورت سمجھتے ہیں اگر دوا ئیں نہ ہوں تو ڈاکٹر ہمارا علاج کیسے کریں؟ شکر کو معمول پر لانے کی جو دوائی ہے اور جو آج سے پتہ نہیں بیسیوں سال پہلے سے شروع ہوئی ہوئی ہے۔اُس کے متعلق دو تین ہفتے ہوئے امریکن ڈاکٹروں نے یہ فتویٰ دیا کہ وہ نہایت