خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 107
خطبات ناصر جلد ششم ۱۰۷ خطبه جمعه ۲۸ مارچ ۱۹۷۵ء سے فائدہ اٹھا سکیں۔آپ کے اس کامل بشر ہونے کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے اندر نوع انسانی کی ہمدردی اور غم خواری اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور اس میں اتنا حسن ہے کہ کہیں اور وہ نظر نہیں آتا۔آپ کی اس ہمدردی کا جو اظہار ہے وہ گو یا صفات باری کے نور کے جلووں میں لپٹا ہوا ہے کیونکہ آپ صفات باری کے مظہر اتم ہیں۔دنیوی عقل ہو یا روحانی فراست، ان کا سر چشمہ ہمیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور آپ کی تعلیم نظر آتی ہے چونکہ آپ کامل بشر تھے اس لئے آپ ہمارے لئے کامل اسوہ ہیں۔اگر آپ کامل بشر نہ ہوتے تو ہمارے لئے کامل اسوہ بھی نہ بن سکتے۔کچھ چیزیں ہمیں آپ کی پیروی سے حاصل کرنی پڑتیں اور کچھ کے حصول کے لئے ہمیں کسی اور طرف نگاہ اُٹھانی پڑتی لیکن آپ کامل نور کے لئے ہی کامل بشر بنتے ہیں کیونکہ خدا سے نور لیا حصول نور کی کامل استعداد کے نتیجہ میں اور وہ دیا نوع انسانی کو کامل بشر کے نتیجہ میں۔آپ نے اپنے زمانہ میں جو آپ کی ظاہری زندگی کا زمانہ تھا اور اپنے زمانہ میں جو آپ کی روحانی زندگی کا زمانہ ہے جو قیامت تک ممتد ہے۔نوع انسانی کے لئے اُسوہ حسنہ بن کر اور اُن کو اس طرف بلا کر کہ میری اتباع کرو کیونکہ میری اتباع کے بغیر تمہیں زندگی کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا اتناد یا، اتنا دیا کہ انسان جب ان باتوں کے متعلق سوچتا ہے تو اس کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔آپ نے لوگوں کو دنیا دی ، دین دیا، روحانیت دی ، خدا کا پیار دیا، خدا کا قرب دیا اور وہ دیا جس سے خدا تعالیٰ کا پیار ظاہر ہوتا ہے یعنی مکالمات ہیں، مخاطبات ہیں، بشارتیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی پیاری آواز ہے جسے انسان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمرنگ ہو کر حاصل کرتا ہے۔آپ کی اس اتباع کے نتیجہ میں اور اس اطاعت کا ملہ کے نتیجہ میں انسان اپنے دائرہ استعداد کے اندر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ جتنا جتنا اپنے اوپر چڑھاتا ہے اتنا اتنا خدائے واحد و یگانہ کا رنگ اس کی ذات پر چڑھ رہا ہوتا ہے کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عکس ہیں پیدا کر نے والے رب کریم کا اور مظہر اتم ہیں صفات باری کے۔ہمارا یہ عقیدہ ہے اور ہم نے اپنی زندگیوں میں زندہ خدا کی تجلیات کو اور اپنے زندہ نبی کے احسانوں کو دیکھا اور مشاہدہ کیا۔ہمارے بڑوں نے بھی مشاہدہ کیا اور ہمارے بچوں نے بھی ،