خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 106 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 106

خطبات ناصر جلد ششم 1+4 خطبه جمعه ۲۸ مارچ ۱۹۷۵ء استعداد کی نشو و نما بھی کامل تھی اور اس کے نتیجہ میں جس قسم کی معرفت جتنی عظیم معرفت اور کامل معرفت صفات باری تعالیٰ کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل تھی اتنی کسی اور کو حاصل نہیں تھی اور چونکہ صفات باری کی معرفت کا کمال آپ کو حاصل تھا اور خدا تعالیٰ سے پیار کرنے کی اور اُس سے محبت کرنے کی قوت کامل طور پر آپ کے اندر پائی جاتی تھی اس لئے اس محبت کے نتیجہ میں جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی اور اس استعداد کی وجہ سے جو آپ کو کمال کے رنگ میں حاصل تھی صفاتِ باری کا مظہر بننے میں آپ نے کمال حاصل کیا اور اسی وجہ سے آپ کے صفاتِ باری کے مظہر اتم ہونے پر ہم یقین رکھتے ہیں۔دیگر انبیاء کی آنکھ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس قدر قرب دیکھا اور انہیں اس کا علم دیا گیا کہ جس کے نتیجہ میں اُنہوں نے تمثیلی زبان میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا آنا اللہ کا آنا قرار دیا۔خود قرآن کریم نے بھی متعدد آیات میں آپ کے اس انتہائی اور کامل قرب کا ذکر کیا ہے۔یہ ایک لمبا مضمون ہے اس وقت اس کی طرف صرف اشارہ کر دینا کافی ہے۔پس چونکہ آپ کامل نور تھے اس لئے آپ کی زندگی میں جو دوسرا پہلو نظر آتا ہے وہ آپ کے کامل بشر ہونے کا ہے۔کامل بشر ہونے کے لحاظ سے آپ نے نوع انسانی پر جو احسان کیا ہے وہ اپنے کمال کو پہنچا ہوا تھا۔دنیا نے آپ کو بجا طور پر محسن اعظم کا لقب دیا یہی آپ کی شان تھی۔چونکہ آپ صفات باری کے اتم اور اکمل مظہر تھے اس لئے آپ کی جو قوت قدسیہ ہے اور فیض رسانی کی جو طاقت ہے وہ ہمیں کسی اور وجود میں نظر نہیں آتی۔اصولی طور پر آپ نے ماضی کی حدود کو پھاندا جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے آدم ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ میں خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس مقام پر فائز تھا۔محض فلسفیانہ طور پر نہیں بلکہ پہلوں کو بھی جو نور عطا ہوا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے طفیل عطا ہوا تھا۔یہ ایک لمبا سلسلہ انبیاء تھا جو بعض کے نزدیک ایک لاکھ ہیں ہزار یا چوبیس ہزار انبیاء پر پھیلا ہوا ہے۔قوم قوم میں نبی بھیجا گیا، زمانہ زمانہ میں انبیاء نے نوع انسانی کی تربیت کی اور یہ اس لئے کہ وہ ارتقائی مدارج میں سے گزر کر اس قابل ہو جا ئیں کہ جب حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا نور د نیا میں جلوہ گر ہوتو وہ اس پر ا اپنی جان قربان کر سکیں اور اس