خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 96
خطبات ناصر جلد ششم ۹۶ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء بادشاہ ہے کیونکہ فرماتا ہے وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ حقیقی بادشاہت کا یہ بیان ہے کہ حقیقی بادشاہ کے لئے ہر چیز پر قادر ہونا ضروری ہے۔ظاہر ہے جو حقیقی بادشاہ ہوگا وہ ہر چیز پر قادر ہو گا اور مصلحتیں اور حالات اور مجبوریاں اس کے راستے میں حائل نہ ہوں گی اور نہ ہو سکتی ہیں بلکہ اُن کے حائل ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مثلاً بادشاہ کی ایک یہ مجبوری ہے کہ چھوٹا ملک ہے جیسے گیمبیا ہے جس کی آبادی تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے اس پر اگر کوئی ایسا ملک حملہ آور ہو جائے جس کی آبادی ایک کروڑ کی ہے تو اس صورت میں چھوٹا ملک کچھ نہیں کر سکتا۔اچھی بادشاہت ہوتے ہوئے بھی وہ مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ اس کی مجبوری ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے تو کوئی مجبوری نہیں۔وہ عظیم ہستی جس نے کُن کہہ کر ساری کائنات کو پیدا کر دیا اور اسی کے حکم سے ساری کائنات نشو و نما پا رہی ہے، اُس کے لئے تو کوئی مجبوری نہیں ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہی تمام برکتوں اور نعمتوں کا سرچشمہ ہے اگر برکتیں اور نعمتیں لینی ہوں تو اسی کی طرف رجوع کرو کہ وہ حقیقی طور پر بادشاہ ہے وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے کوئی طاقت اس کی راہ میں روک نہیں بن سکتی۔خدا تعالیٰ سے جو برکتیں اور نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش کرو اس میں صرف اس دنیا کو مدنظر نہ رکھو بلکہ اس کی برکتوں کے ایک حصہ کا تعلق موت سے ہے اور ایک کا تعلق زندگی سے ہے۔پس ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ زندگی اور موت کو پیدا کرنے والے رب کی ہر قسم کی برکتیں حاصل کریں جن کا اس زندگی سے تعلق ہو یا جن کا موت سے تعلق ہو۔انسان کے لئے ہر موت ایک نئی زندگی کا دروازہ کھولتی ہے لیکن خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيوة کے محاورہ میں ہم نہیں گئے کہ زندگی سے تعلق رکھنے والی اور ایک زندگی کو چھوڑ کر دوسری زندگی میں جانے سے تعلق رکھنے والی جو برکتیں اور نعمتیں ہیں وہ خدا تعالیٰ سے حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس کے لئے بنیادی طور پر جورا ہیں اور اصول بتائے گئے ہیں وہ یہی ہیں کہ تمام برکتیں اسی عظیم ہستی سے حاصل کی جاسکتی ہیں جس کی خلق کے اندر اور جس کی حسنات کے جلوؤں کے اندر تمہیں کوئی تضاد نظر نہیں آتا اور ساتھ طریقہ بھی بتادیا کہ تمہارے اندر تضاد نہیں ہونا چاہیے۔پچھلے سال دنیا نے جماعت احمدیہ کے کردار کا ایک عظیم نظارہ دیکھا۔جماعت کی عظمت