خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 84

خطبات ناصر جلد ششم ۸۴ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۷۵ء دُنیا میں موت وحیات کا سلسلہ اکٹھا اور متوازی چلتا ہے اصل چیز حیات ہے اور حیات یا زندگی کا نہ ہونا یا زائل ہو جانا موت کہلاتا ہے۔قرآن کریم نے حیات کی مختلف قسمیں بیان کی ہیں اور حیات کے فقدان کا نام موت رکھا ہے۔ایک تو قوت نامیہ ہے یعنی نمو کی قوت ، جو قر آنی محاورہ میں حیات کہلاتی ہے اس کا تعلق انسان سے، حیوان سے اور نباتات سے بھی ہے اور اگر ہم زیادہ گہرے چلے جائیں تو اس کا تعلق ہر قسم کی مخلوق سے ہے کیونکہ ہیرے اور جواہرات بھی ایک لمبے عرصے کی نشوونما کے بعد اپنی خصوصیات کے حامل بنتے ہیں اور جب نمو کی قوت اللہ تعالیٰ کے اذن سے زائل ہو جائے یا زائل کر دی جائے تو قرآنی محاورہ کے مطابق اسے موت کہتے ہیں۔دوسرے قرآن کے محاورہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قوت حاسہ کو بھی زندگی کہا گیا ہے۔انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے یا ہم جو کچھ محسوس کرتے ہیں وہ اس کی یا ہماری زندگی ہے۔بعض ایسی حالتیں ہیں جب جس کام نہیں کرتی یا بعض ضروری اور بنیادی حصے کام نہیں کر رہے ہوتے تو قرآن کریم نے اسے بھی موت کہا ہے اگر کسی کو فالج ہو جائے تو قوتِ حاسہ غائب ہو جاتی ہے۔تیسری قسم کی زندگی جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے وہ قوت حاصلہ ہے۔اس کے مقابل قرآنی محاورہ کے مطابق جہالت مطلقہ ، موت ہے۔چوتھے معنی میں حیات کا لفظ قرآنی محاورہ میں اُس خوش حال زندگی کا نام ہے، جو دنیوی لحاظ سے کوشش کرنے سے بسا اوقات دنیا والوں کو کبھی مل جاتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔اس کے مقابلہ میں حزن اور غم ہے جو زندگی کو مکہ رکر دیتا ہے۔قرآنی محاورہ میں اسے بھی موت کہا گیا ہے۔پانچویں۔قرآنی محاورہ میں نیند کو بھی موت کہا گیا ہے اور اس کے برعکس بیداری کو زندگی کا نام دیا گیا ہے یعنی قرآنی محاورہ کے مطابق بیداری کا فقدان موت کہلاتا ہے۔اسی طرح ایک محاورہ پیدا ہو گیا ہے کہ النُّومُ مَوْتُ كَثیف کہ نیند ایک کثیف موت ہے۔وَالْمَوْتُ نَوْمٌ كَثِيرٌ کہ موت گہری نیند کا نام ہے۔چھٹے۔اجزا کی تحلیل کا نام قرآن کریم کے محاورہ میں موت کہلاتا ہے اس کے مقابلہ میں کچھ