خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 808
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۰۸ خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء کی شریعتیں محترف و مبدل ہو گئیں، انسانی ہاتھ نے اُن میں ملاوٹ کر دی۔اس لئے مذہب کے ہر پہلو پر اس تحریف کا اثر پڑا مثلاً ایک مذہب نے یہ کہا کہ نجات وابستہ ہے حضرت مسیح علیہ السلام کے کفارہ پر ایمان لانے کے ساتھ ، حالانکہ وہ وحی جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی اور وہ شریعت جس کے قیام کے لئے حضرت عیسی علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے یعنی شریعت موسویہ، اس میں تو کہیں بھی نجات کو مسیح علیہ السلام کی صلیب کے ساتھ وابستہ نہیں سمجھا گیا تھا لیکن چونکہ انسانی ہاتھ نے تبدیلیاں کر دیں اور غلط باتیں بیچ میں ملا دیں اس لئے اس ملاوٹ اور تحریف کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ نجات کو مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کے ساتھ وابستہ کر دیا گیا لیکن نجات کے معنے اُن کی نظر سے اوجھل ہیں اور نجات کی حقیقت سے انہیں آگا ہی نہیں۔ہم نے عیسائی لٹریچر کا بڑا مطالعہ کیا ہے۔ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہی نہیں کہ نجات ہے کس چیز کا نام مگر یہ صرف شریعت محمدیہ کا کمال ہے کہ نجات کی تعریف بھی ہمیں ایمان نے سکھائی۔نجات کے معنے بھی ہمیں شریعت محمدیہ نے سکھائے اور نجات کے حصول کے ذرائع بھی ہمیں شریعت محمدیہ نے بتائے چنانچہ شریعت محمدیہ کی رُو سے نجات کے معنی ہیں وہ خوشحالی جس کا تعلق ابدی مسرت کے ساتھ ہوتا ہے۔گویا نجات کے معنے انسان کی وہ خوشحالی اور وہ لذت اور وہ سرور ہے جو اس کی تمام قوتوں کی سیری کے بعد اُسے حاصل ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں انسان کے مادی اور جسمانی حقوق قائم کئے ہیں وہاں اُس نے انسان کے ذہنی اور علمی حقوق بھی قائم کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ذہنی قوتیں عطا کیں اور اُن کی سیری کے سامان پیدا کئے۔اُن کی کمال نشو و نما کے سامان پیدا کئے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو اخلاقی طاقتیں اور استعداد میں عطا کیں اور اُن کی سیری اور کامل نشو ونما کے سامان پیدا کئے شریعت محمدیہ نے اس کی طرف بھی رہنمائی کی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو چوتھی قسم کی طاقتیں اور قوتیں دیں اور وہ روحانی طاقتیں اور قوتیں ہیں۔روحانی طاقتوں اور قوتوں کی سیری اور کمال نشو و نما کے لئے اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کئے اور شریعت محمدیہ نے وہ راہیں بتائیں جن پر چل کر انسان دنیوی خوشحالی اور ابدی لذتیں اور سرور بھی حاصل کر سکتا ہے۔نہ صرف روحانی سرور بلکہ بقیہ طاقتوں سے تعلق رکھنے والی اور بقیہ استعدادوں سے وابستہ جو