خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 807 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 807

خطبات ناصر جلد پنجم ۸۰۷ خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۷۴ء نجات کا حسین تصور اور اس کے حصول کے ذرائع اسلام نے پیش کئے ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۷۴ء بمقام جلسہ گاہ مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔انسان کی طرف یوں تو ہزاروں بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک لاکھ سے بھی زیادہ پیغمبر، نبی اور رسول آئے جنہوں نے اپنے اپنے وقت کے تقاضوں کو پورا کیا اور ملک ملک کے حالات کے مطابق وقت وقت کی انسانی استعداد کے مد نظر انسان کے لئے خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن یہ سب کچھ ان انبیاء پر ایمان کے بعد میسر آیا اور اب بعثت نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بعد ایمان کا لفظ اس جگہ میں بطور اسم استعمال کر رہا ہوں۔بطور مصدر استعمال نہیں کر رہا۔مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ عربی زبان میں ایمان کا لفظ جب بطور اسم استعمال ہو تو اس کے معنی ہیں وہ شریعت جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔گویا ایمان ، شریعت محمدیہ کا دوسرا نام ہے۔اس کامل اور مکمل اور ابدی شریعت کے بعد جو قیامت تک قائم رہنے والی ہے نجات کا تعلق ”ایمان“ سے وابستہ ہے۔پہلی شریعتیں منسوخ ہو گئیں کیونکہ اس کامل شریعت اور مکمل ہدایت کے بعد انسان کے لئے پہلی ہدایتوں کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اب نجات ایمان سے ، شریعت محمدیہ سے وابستہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ نجات کہتے کسے ہیں؟ جہاں تک پہلے مذاہب کا تعلق ہے۔اُن