خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 741
خطبات ناصر جلد پنجم ۷۴۱ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء انسان بنانے والی ہے اور میں نے بتایا کہ آج تک کسی جانور پر گھوڑے پر یا بیل پر یا پرندوں میں سے کبوتر پر شریعت نازل نہیں ہوئی۔صرف انسان پر ہمیشہ سے شریعت نازل ہوتی رہی ہے۔اس سے ہمیں پتہ لگا کہ روحانی ترقیات سے پہلے بلکہ اخلاقی منازل طے کرنے سے پہلے انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے اندر انسانی اقدار پیدا کرے۔اگر کسی میں انسانی اقدار نہیں جیسا کہ خود قرآنی شریعت نے بتایا تو اُس کے لئے یہ عقلاً ممکن نہیں ہے کہ وہ با اخلاق بھی ہو اور باخدا بھی ہو۔پہلے اس کے لئے انسان بننا ضروری ہے اور انسانی اقدار میں سے جو قرآنِ کریم نے ہمیں بتائیں یہ ہے کہ جیسا کہ ابھی میں نے بتایا کہ ظلم کسی انسان پر نہیں کرنا اور حقارت اور گالیاں اور بُرا بھلا کسی انسان کو نہیں کہنا۔یہاں تک کہہ دیا، اتنی دلجوئی کی ، جذبات کا اتنا خیال رکھا کہ وہ لوگ جو انسان تو ہیں لیکن اُن کے اندر انسانی اقدار نہیں وہ خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ شرک کرتے ہیں تو مشرکین کے خداؤں کو بھی گالی نہیں دینی جن کو وہ خدا کے شریک بناتے ہیں۔ان کے جذبات کا خیال رکھا۔پتھر کے تراشے ہوئے بت تو نہ گالی سنتے ہیں نہ اُن کے جذبات ہیں، نہ اُن کے اُو پر اس کا کوئی اثر ہوتا ہے۔اثر تو انسان پر ہوتا ہے جس نے اُس بت کو تراشا۔اگر کوئی اس کے بت کو گالی دے تو اس کے جذبات کو ٹھیس لگتی ہے تو جو خدا تعالیٰ کے مقابلے میں بت تراشتے ہیں اور شرک میں مبتلا ہیں قرآنِ کریم نے ان کے جذبات کا بھی خیال رکھتا ہے۔یہ وحشی کو انسان بنانے کا سبق ہے۔پس درجنوں ایسی تعلیمات قرآنی ہیں جو وحشی سے انسان بناتی ہیں اور میں نے بتایا کہ قرآنی شریعت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی تأثیرات اور فیوض کا یہ نتیجہ تھا کہ وہ وحشی قوم جو اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتی تھی۔وہ وحشی قوم جو ظلم کے چشمہ سے پانی کی طرح ظلم پی پی کر سیر ہوتی تھی۔وہ لوگ جو افترا کرنے والے تھے۔جھوٹ باندھنے والے تھے عیش میں زندگی کے دن گزار نے والے تھے جو پاکدامن عورتوں کے متعلق اپنے عشق کی جھوٹی داستانوں کا اعلان خانہ کعبہ میں لٹکائے گئے عشقیہ اشعار میں کرتے تھے۔جن میں معصوم عورتوں کے ساتھ جھوٹا عشق جتایا جاتا تھا اور بڑے فخر سے باتیں کی گئی تھیں۔اس قسم کی ان کی وحشیانہ حالت تھی۔وہ وحشیانہ زندگی گذار رہے تھے۔پھر اس