خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 717
خطبات ناصر جلد پنجم 212 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۷۴ء ہر انسان اپنے اپنے ظرف کے مطابق جب پوری نشو و نما حاصل کر لیتا ہے تو پوری لذت اور سرور جتنا وہ محسوس کرتا تھا اور جس قدر ممکن الحصول تھا ) اتنا اسے مل گیا۔اسی کے مطابق اس نے محسوس کرنا تھا۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ( دوسری بات جو مثبت رنگ کی ہے یعنی ) یہ کرو گے تو خدا تعالیٰ راضی ہو جائے گا۔( پچھلے خطبہ میں میں نے کہا تھا کہ یہ نہ کرنا اللہ ناراض ہو جائے گا ) اب میں دو باتیں قرآن کریم کے مطابق ایسی بتا رہا ہوں کہ قرآنِ کریم نے کہا یہ کرو گے تو میرا پیار حاصل کرو گے۔دوسری بات یہ ہے کہ معرفت کے نتیجہ میں محبت اور محبت کے نتیجہ میں خشیت پیدا ہوتی ہے یعنی خدا کہیں ناراض نہ ہو جائے۔اس کے متعلق میں نے پہلے خطبہ میں بتایا تھا لیکن ایک جذ بہ یہ ہے کہ جب میں اپنے پیدا کرنے والے رب سے محبت اور پیار کر رہا ہوں تو میرا دل چاہتا ہے کہ جو میرا محبوب ہے وہ مجھ سے پیار کرے اور مجھ سے محبت کرے، اس کی رضا مجھے حاصل ہو، یہ انسانی فطرت کے اندر ہے۔قرآنِ کریم نے کہا اس کا سامان ہم نے کر دیا۔اس محبت کے پیدا ہونے کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو میری محبت ہر ایک کو اس کے ظرف کے مطابق مل جائے گی۔اگر اتباع نہیں کرو گے، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اُسوہ نہیں بناؤ گے تو میری محبت نہیں ملے گی اور مجموعی طور پر جب ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک کو ہم مکی زندگی کہتے ہیں اور ایک کو مدنی زندگی کہتے ہیں۔ہمارا یہ زمانہ آپ کی اس زندگی سے مشابہ ہے جو مکی زندگی تھی۔امتحان اور ابتلا اور مصائب خدا کی خوشنودی اور محبت کی خاطر برداشت کرنے کی زندگی تھی۔یہ نمونہ سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزارو! جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس وقت اپنی تمام برکتیں بھیج کر اور محبت کے سامان پیدا کر دیے تھے اسی طرح تمہارے لئے بھی پیدا ہوں گے کیونکہ اسلام کے ذریعہ جس خدا سے ہمارا تعارف کرایا گیا ہے نہ اس خدا کی طاقتیں کم ہوتی ہیں نہ معطل ہوتی ہیں ، نہ اسے نیند آتی ہے نہ وہ اونگھتا ہے، نہ وہ بوڑھا ہوتا ہے وہ تو ازلی ابدی خدا اپنی طاقتوں کے انتہائی جلوؤں کے ساتھ جو خدا میں ہونے چاہئیں موجود ہے۔جس رنگ میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اپنے فدائین اور جاں نثاروں