خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 700
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۳ رستمبر ۱۹۷۴ء وہ بھی فساد کی زد میں آجاتے ہیں مثلاً دو ہمسائے لڑ پڑتے ہیں تو ان میں سے ایک بہر حال حق پر نہیں ہوتا یا بعض دفعہ جب دو آدمی لڑ پڑتے ہیں تو تین شکلوں میں سے ایک شکل ضروری ہوتی ہے یا دونوں حق پر نہیں ہوتے۔ہر دو اپنے حقوق سے زیادہ کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں یا ان میں سے ایک حق پر ہوتا ہے مثلاً زید حق پر ہوتا ہے اور بکر حق پر نہیں ہوتا یا بکر حق پر ہوتا ہے اور زید حق پر نہیں ہوتا۔اب بکر اور زید کی لڑائی میں ان کے ہمسائے جو دو گھر پرے ہٹ کر ہوتے ہیں اور ان کی لڑائی میں شامل نہیں ہوتے وہ بھی متاثر ہوتے ہیں اور وہ اس طرح کہ لڑائی کرنے والوں میں سے غصہ میں آکر کوئی ایک آدمی بجلی کا پول اڑادیتا ہے۔جس سے ساری گلی میں اندھیرا ہو جاتا ہے۔کئی گھروں کے معصوم بچے امتحان کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں ان کا وقت ضائع ہونے کی وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہوتا ہے حالانکہ وہ فساد میں شامل ہی نہ تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ ایک بڑی پیاری اور حسین آیت کے ایک ٹکڑے میں فرمایا ہے کہ ایسے گناہ کرنے سے بچا کرو کہ جب ان پر گرفت کی جاتی ہے تو وہ لوگ بھی سزا اور عذاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں جن کا کوئی گناہ نہیں ہوتا۔یہ ایک حقیقت زندگی ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ پر اعتراض نہیں ہوتا البتہ اس سے انسان پر اعتراض واقع ہوتا ہے کہ اس نے اپنے ماحول کو مومنانہ اور صالحانہ کیوں نہیں رکھا۔بہر حال یہ ایک لمبی تفصیل ہے۔میں اس وقت مختصراً دو منفی پہلوؤں پر روشنی ڈال رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا ہے کہ جماعت احمد یہ مجھ سے ایک سوال یہ کر رہی ہے کہ مذکورہ قرارداد پر تبصرہ کیا جائے۔اس کا جواب میں دے چکا ہوں کہ میرے تبصرہ کو سننے کے لئے کچھ دیر انتظار کرو۔میں غور کر رہا ہوں میں دعائیں کر رہا ہوں۔میں مشورے لے رہا ہوں اس کے بہت سے پہلو ہیں۔اگر خدا نے چاہا تو اسی کی توفیق سے اگلے جمعہ کے خطبہ میں یا جب خدا چاہے گا۔انشاء اللہ تبصرہ ہوگا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ ہمارا رد عمل کیا ہونا چاہیے؟ میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ تمہارا رد عمل یہ ہونا چاہیے کہ نہ تم ظالم بنو خدا کی نگاہ میں اور نہ تم مفسد بنو خدا کی نگاہ میں۔اس لئے جماعت احمدیہ کا کوئی رد عمل ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ جس میں سے ظلم کی بُو آتی ہو یا اس کے اندر فساد کی سٹراند پائی جاتی ہو ہمارا رد عمل بالکل ایسا نہیں ہوگا۔اور بھی باتیں ہیں لیکن آج کے